خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 546 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 546

خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۴۶ خطبه جمعه ۱۸ / جنوری ۱۹۸۰ء نے دعوی کر دیا کہ ہم زمین سے خدا کے نام ، آسمانوں سے خدا کے وجو دکومٹائیں گے۔وہ انقلاب جو ہے وہ بھی اسلام کے حق میں ہوا ہے۔اس لئے کہ جو تختی تھی اس کے اوپر جو غلط باتیں لکھی ہوئیں تھیں انہوں نے آکر صاف کر دیا۔اب ہمارا جو کام تھا وہ آسان ہو گیا۔جو دنیا میں بہت سے اتحاد ہوئے قوموں کے درمیان ملکوں کے درمیان ان پر غور کیا جب ہم نے ، تو ہمیں پتہ لگا کہ یہ بھی ہمارے حق میں ہے اس لحاظ سے کہ جن مختلف برائیوں میں وہ پھنسے ہوئے تھے، ان کا مجموعہ اتنا بڑا تھا کہ جو ہماری ذمہ داری تھی ان کو پاک اور مطہر کرنے کی یعنی ان راہوں کو دکھانے کی جن پہ چل کے وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں متقی بن جائیں اتنا بڑا کام تھا کہ انسان کی روح کانپ جاتی ہے سوچ کے یہ ذمہ داری ہم پر لگائی۔جب انہوں نے اتحاد کیا تو اتحاد کے نتیجہ میں ہر قوم نے ، ہر ملک نے اپنی برائیوں میں سے بعض چھوڑ دیں اتحاد کی خاطر۔تو اس حد تک ہمارا کام ہو گیا نا۔جو ہم نے کام کرنا تھا اس کی بجائے انہوں نے خود کر دیا حالات نے ان کو مجبور کیا کہ ان برائیوں کو اس حد تک تم چھوڑ دو۔خدا تعالیٰ کی تقدیر، ہر تبدیلی انسانی زندگی میں ، ہر انقلاب جو چھوٹا ہے یا بڑا انسانی زندگی میں وہ نوع انسانی کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب لا رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی تدبیر یہ ہے کہ اس نے مہدی معہود علیہ السلام کو مبعوث کر دیا اور ایک جماعت کو قائم کیا جن میں اچھے بھی ہیں جن میں درمیانے درجے کے بھی ہیں سست بھی ہیں لیکن جن میں ابھی تک خدا کے فضل سے یہ احساس زندہ ہے کہ اجتماعی زندگی کی کمزوریوں کو ہم نے ایک دوسرے سے تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدة : ٣) کے ماتحت تعاون کرتے ہوئے دور کرنا اور ایسا بن جانا ہے کہ جس کے نتیجہ میں ہمارا عمل غیروں کے لئے ایک اُسوہ بنے اور ایک نمونہ بنے۔اور ہماری فراست جو ہے اللہ تعالیٰ ایسا فضل کرے کہ وہ جہاں اندھیرے ہیں ان کو دور کرنے والی ہو۔خدا تعالیٰ جو اللہ نُورُ السَّمُوتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ٣٦) نور ہی نور ہے سارے جہانوں کے لئے اور ہماری زندگیوں کے لئے بھی اس سے ہم نور کی شمع حاصل کریں اور اندھیروں کو دور کرنے والے بنیں۔بڑی ذمہ داری ہے آپ پر ، آپ میں سے ہر ایک پر ، مرد پہ بھی ، عورت پہ بھی آپ کی