خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 525
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۲۵ خطبه جمعه ۴ جنوری ۱۹۸۰ء ہمارے ہیں نمائندہ انہوں نے تعویذ گنڈا وہاں شروع کرد یا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ لیکن جب جماعت کو علم ہوا تو ان کو سمجھانے کے لئے انتظام کیا گیا ہے تو بدعات کو دور کر کے اخلاق شنیعہ کو دور کر کے اخلاق فاضلہ قائم کرنا اور بلند اسلامی اخلاق جماعت میں پیدا کرنا یہ ساری جماعت کا فرض ہے وقف جدید کا بھی فرض ہے۔جو بدیاں ہیں اور جن کی طرف اس لئے تو جہ نہیں دی جاتی کہ شاید چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں کوئی حرج نہیں۔اول تو کوئی بدی بھی چھوٹی نہیں۔اگر ایک چھوٹا ساعمل مقبول ہو جائے وہ انسان کو جنت میں لے جاسکتا ہے تو ایک چھوٹا سا گناہ جو خدا تعالیٰ کے قہر کو بھڑ کا دے وہ جہنم میں بھی لے جاسکتا ہے۔ہمیں اپنی عقل سے کام لینا چاہیے۔چونکہ وقف جدید کے کام کے متعلق میں اس وقت بات کر رہا ہوں بعض باتیں جو میرے علم میں آئیں ان میں سے ایک کو میں اس وقت لیتا ہوں اور وہ ہے بعض لوگوں میں گالی دینے سب وشتم کرنے اور لعنت بھیجنے کی بدعت اور سمجھتے ہیں کہ نعوذ باللہ۔نعوذ باللہ۔نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کو اور تو کوئی کام نہیں ہے صرف اس انتظار میں بیٹھتا ہے کہ ہم کسی کے خلاف بد دعا کریں اور وہ فوراً اس کے مطابق دنیا میں اپنی تقدیر کو حرکت میں لائے اور اس کے اوپر اس کا غضب نازل ہو جائے۔اس کے متعلق میں مختصراً کہنا چاہتا ہوں کہ ساری جماعت یہ عہد کرے کہ کسی پر لعنت کوئی شخص نہیں بھیجے گا۔نہ غیر انسان پر نہ انسان پر۔زمیندار جو ہیں وہ اپنے بیلوں کو گالیاں دیتے ہیں مر جائیں۔توں ایہہ ہو جائے۔تیرے اوپر خدا دا غضب۔خوامخواہ غصہ ایک بے زبان حیوان کے اوپر اس کو تو نقصان نہیں پہنچے گا لیکن تمہیں گناہ گار کر گیا وہ تمہارا بیل۔اتنی اہمیت دی اس چیز کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک سفر میں ایک اونٹ پر قومی سامان لدا ہوا تھا۔تو ایک دو حدیثیں ہیں ایک میں مالک کا ذکر ہے ایک میں مالکہ کا ذکر ہے۔اس کے منہ سے نکلا یہ کہ خدا کی لعنت ہو تجھ پر۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں آواز پڑی آپ نے کہا اس اونٹ سے اس سامان کو اتار دو اور یہ اونٹ جو ہے یہاں سے نکال دو میرے قافلے سے اور آگے کبھی اس کے اوپر مسلمان کا سامان نہیں لا دا جائے گا۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ اسی طرح آوارہ پھرتا رہا یہ اونٹ ، اور