خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 508
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۰۸ خطبہ جمعہ ۲۱؍دسمبر ۱۹۷۹ء ہیں جو حقیقی حسن عمل ہے اس سے وہ غافل ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صنعا یہ تیسری بات تھی۔اور چوتھی بات أُولَبِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بِأَيْتِ رَبّھم یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات جو ہیں اس کا یہ انکار کرتے ہیں۔قرآن کریم کی اصطلاح میں آیات دو قسم کی ہیں۔ایک وہ جو دنیوی لحاظ سے خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے ظاہر ہوتے اور دنیا میں ان جلوؤں کے نتیجے میں کچھ پیدا ہوتا ہے خلق یا آمر کے نتیجے میں یعنی یا تو جو چیز پیدا ہوئی ہوئی ہے اس کی خاصیتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے جلوے ان میں اضافہ کر کے ایک نئی چیز پیدا کرتے ہیں۔بڑی کثرت کے ساتھ قرآن کریم نے آیات کے تحت اس قسم کے جلوے جو صفات باری کے ہیں ان کا ذکر کیا ہے اور دوسری وہ آیات ہیں جو انبیاء کے ذریعہ سے اور انبیاء کے فیضان کے نتیجہ میں ان کے متبعین کے ذریعہ سے انسان کی ہدایت کے لئے ، اس کی بہبود کے لئے ، اس کی خوشحالی کے لئے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے وہ آیات ظاہر کی جاتی ہیں۔اس میں سب سے آگے نکلنے والے ہمارے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے معجزات کا انسان شمار نہیں کر سکتا اور وہ تمام باتیں معجزانہ رنگ میں جو ظاہر ہوئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے وہ بھی آیات ہیں۔اسی واسطے جس طرح اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی کے برسنے کا ذکر کرتے ہوئے اسے آیت شمار کیا اور اس پانی سے زمین کو زندہ کرنے کو اس نے آیت کہا اور اس سے کھیتیاں اگانے کو اس نے آیت کہا اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آیات باری ہمارے سامنے پیش کیں کلام باری کی شکل میں یعنی قرآن کریم ، اس کے ہر ٹکڑے کو آیت کہا گیا۔ساری آیات قرآنی ہیں نا۔ہم گنتے ہیں کہ اس سورت کی اتنی آیات ہیں اس سورت کی اتنی آیات ہیں انہیں بھی آیات کہا جاتا ہے۔تو یہ بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں قرآن کریم کی اصطلاح میں جن پر آیات کا لفظ بولا جاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اَخْسَرِینَ اَعمالا اس لئے ہیں کہ یہ انکار کرتے ہیں خدا تعالیٰ کی ان آیات کا جو خدا تعالیٰ نے اس کا ئنات میں ظاہر کیں اس غرض سے کہ اس کے بندے ان آیات سے ہر قسم کا فائدہ حاصل کریں اور جس غرض کے لئے انہیں پیدا کیا گیا ہے وہ