خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 507
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۰۷ خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۷۹ء وہ اس دنیوی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اس ورلی زندگی کو انہوں نے اپنا مقصود بنالیا۔دوسری بات یہاں اللہ تعالیٰ یہ بیان کرتا ہے ان آیات میں اس زندگی کو ورلی زندگی کو انہوں نے اپنا مقصود بنالیا، اس کے لئے وہ عمل ، کوشش سعی اور جہد کرتے ہیں اور پوری توجہ کے ساتھ اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ اور اپنی پوری ہمت کے ساتھ اس دنیا کو اور صرف اس دنیا کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔دنیا کے اموال کے حصول کے لئے جائز و نا جائز میں کوئی تمیز نہیں کرتے۔عزت کی خاطر ، اپنی چوہدر کی خاطر ، اپنی بڑائی کی خاطر وہ ظلم اور انصاف کی کوئی تمیز نہیں کرتے اور جب حقیقت بعض دفعہ سمجھتے بھی ہیں تو ان کی عزت کی بیچ جو ہے اپنی ذاتی دنیوی لحاظ سے جو انہوں نے اپنا ایک وقار جھوٹا بنایا ہوا ہے اس دنیا میں اس کی خاطر وہ حقیقت کو اور صداقت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے اپنے اعمال کے لحاظ سے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ور لی زندگی ہی کو اپنا مقصود بنالیا۔اسی سے انہوں نے غرض رکھی خدا کو بھول گئے جو خدا تعالیٰ نے آیات ظاہر کی تھیں ان کی اصلاح کے لئے اور جو ہدایت بھیجی تھی مختلف انبیاء کے ذریعے مختلف زمانوں میں یہ اصولی بات یہاں بیان ہو رہی ہے آدم سے لے کے قیامت تک اس کا بھی انہوں نے کوئی خیال نہیں کیا۔بس دنیا ہے دنیا ہے، کھانا ہے، پینا ہے،سونا ہے ، ناچ ہے، گانا ہے، گپیں ہیں ، چغلیاں ہیں، بدظنیاں ہیں، اپنی بڑائی کی شیخی ہے، فخر کا اعلان ہے، اپنی جھوٹی عرب توں کی خاطر ہر قسم کا ظلم ہے وغیرہ وغیرہ ہزار قسم کی برائیاں پھر ایسے شخص کے اندر پیدا ہو جاتی ہیں چونکہ ہر قسم کی برائی ایسے شخص کے اندر پیدا ہو جاتی ہے اس لئے سب سے زیادہ گھاٹا پانے والا وہ بن جاتا ہے۔اور پھر وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعَا اس کے ساتھ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔دنیا میں آگے نکل رہے ہیں۔بین الاقوامی لیڈرشپ انہیں حاصل ہو گئی۔بڑی طاقت ہے ایک دنیا کو دھمکی دیں تو آدھی دنیا لرز جاتی ہے کہ کہیں ہمارے اوپر کوئی آفت ہی نہ آجائے اور اس قسم کی فضا انہوں نے پیدا کی ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی اسی چیز کو حسنِ عمل سمجھتے