خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 498 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 498

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۹۸ خطبہ جمعہ کے دسمبر ۱۹۷۹ء خدمت بھی کر رہے ہیں لیکن وہ جس نے سب کچھ پیدا کیا اس کو جانتے نہیں ، بڑی محرومی ہے۔ان کو ان محرومیوں سے نکال کے ان ظلمات سے باہر کھینچ کر نور کی طرف لانا یہ بھی تو ہماری ذمہ داری ہے۔یہ بھی تو ان کا حق ہے۔یہ حق ہے کہ ان کو نور ملے۔یہ حق ہے کہ وہ خدا کو پہچا نہیں۔یہ حق ہے کہ جس طرح دنیوی میدانوں میں انہوں نے خدا تعالیٰ کی نعماء کو حاصل کیا ، روحانی طور پر بھی وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے اور اس کی رضا کی جنتوں کو پانے والے ہوں اس لئے جماعت احمدیہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے کسی بچے کو اس سے پہلے تعلیم چھوڑنے نہ دیں جہاں تک وہ پہنچ سکتا ہے۔جو بچہ اپنے ذہن کے لحاظ سے مڈل تک پہنچ سکتا ہے اس کو پرائمری میں نہ چھوڑنے دیں تعلیم۔جو میٹرک تک پہنچ سکتا ہے اسے مڈل میں نہ چھوڑنے دیں تعلیم۔جو انٹرمیڈیٹ میں پہنچ سکتا ہے اس کو دسویں جماعت کے بعد تعلیم نہ چھوڑنے دیں۔جو بی اے۔ایم اے۔پی ایچ ڈی کر سکتا ہے اس سے پہلے وہ تعلیم چھوڑ کے دوسرے میدانوں میں نہ جائے۔پہلے اپنی استطاعت اور قابلیت کے مطابق اپنی تعلیم کو پورا کرے۔پھر وہ اس تعلیم سے فائدہ اٹھائے جو اس نے حاصل کیا، علم کے میدان میں۔اس کی روشنی میں۔دوسروں کے لئے ایک مفید وجود بننے کی کوشش کرے۔اصل علم ہمارے نزدیک تو قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اور جتنے یہ سارے علوم سائنسز وغیرہ جو ہیں ان کی بنیادی باتیں ہمیں قرآن کریم میں نظر آتی ہیں بلکہ بعض ایسی بنیادی حقیقتیں ہیں جو علم کے میدان میں آگے بڑھنے والی قومیں ہیں ان سے بھی وہ بنیادی حقیقت مخفی رہی اور خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ ہم پر اسے واضح کیا۔مثلاً Mathematics ہے۔حساب جو ہے یہ سمجھا جاتا ہے کہ بالکل واضح اور اس میں کوئی غلطی اور کوئی خلط اور کوئی Confusion ہو ہی نہیں سکتا۔دو اور دو چار اور آٹھ اور آٹھ سولہ ہیں۔اسی طرح یہ سارا چلتا ہے لیکن جو حساب دان ہیں چوٹی کے انہوں نے یہ لکھا ہے میں نے خود پڑھا ہے کتاب میں کہ علم حساب جو ہے یعنی حساب کا علم۔مفروضات کے اوپر اس کی بنیاد ہے ، حقائق پر نہیں کہ بعض مفروضات ہم کرتے ہیں۔پھر یہ علم آگے چلتا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ حساب کی بنیا د بعض حقائق کا ئنات پر ہے۔اس وقت یہ میرا امضمون نہیں۔میں لمبا نہیں کرنا چاہتا۔صرف یہ بتارہا ہوں کہ اس وقت علم کے میدانوں