خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 497 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 497

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۹۷ خطبہ جمعہ کے ردسمبر ۱۹۷۹ء جب آگے بڑھے تو بہتوں نے یہ سمجھ لیا کہ عقل کافی ہے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے کی ضرورت نہیں۔یا بعض مغرور ہو گئے لیکن جو اچھے سائنسدان دنیا نے پیدا کئے یا دوسرے محققین۔ان میں سے بڑی بھاری اکثریت مسکین، کوئی فخر نہیں ، عاجز انسانوں کی ہے یعنی خدا کو انہوں نے مانا یا نہ مانا لیکن عجز اور انکسار ان کی طبیعتوں میں پایا جاتا ہے لیکن کچھ متکبر بھی ہو گئے۔ان کو علم نے نقصان پہنچایا۔کچھ قوموں کو نقصان پہنچایا۔یعنی جو خود عالم نہیں تھے مثلاً آپ کوئی قوم یورپ کی لے لیں۔ایک حصہ تھا ان کا محققین کا۔عاجز منکسر المزاج انسانوں کا جنہوں نے علم کے میدان میں رفعتیں حاصل کیں۔چاند پر کمند ڈالی۔مریخ کی تصویر میں حاصل کرلیں وغیرہ وغیرہ۔ہر طرف وہ آگے بڑھے۔آگے بڑھتے چلے گئے دنیوی لحاظ سے۔بڑے ہی منکسر المزاج۔اکثر ان میں سے ایسے ہیں جنہوں نے ان قوموں کو سنبھالا ہوا ہے مجھ سے کسی نے پوچھا تھا کہ خدا تعالیٰ ہماری قوم پر عذاب کیوں نہیں نازل کرتا اتنے بد اخلاق ہو گئے ہیں ہم۔میں نے کہا تمہارے اندر ایک حصہ ایسا ہے کہ جو شراب نہیں پیتا، سگریٹ نہیں پیتا ، جو شہوت کی نظر کسی لڑکی پر نہیں ڈالتا۔اپنے کام میں مگن خدمت خلق کا جذبہ ہے اس کے اندر۔کہتا ہے یہ میرا میدان ہے اس میں میں ترقی کروں گا۔انسان کو فائدہ پہنچے گا اور ہر ملک میں لاکھوں ایسے ہیں تو ان کو خدا تعالیٰ کیسے ہلاک کر دے جو اس کے بندوں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اگر چہ اس کو نہیں پہچانتے۔بہر حال ہم نے ان تک بھی تو خدا کا نام پہنچانا ہے یہ جو علمی میدانوں میں آسمانوں کو چھورہے ہیں ان تک بھی تو خدا تعالیٰ کا نام پہنچانا ہے۔ان پر بھی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن ظاہر کرنا ہے۔انہیں بھی تو بتانا ہے کہ کس قوتِ احسان کے مالک ہیں ہمارے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ان سے تو انہی کے مقام پر علمی میدان میں پہنچا ہوا آدمی بات کر سکتا ہے اور تو نہیں کرسکتا۔تو اس نقطۂ نگاہ سے بھی یعنی ایک تو ہے خدمت خلق کا نقطہ نگاہ۔اس لحاظ سے بھی کہ زیادہ سے زیادہ خدمت لینے کی طاقت نوع انسانی میں پیدا ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ وہ حصہ پائے ایک یہ نقطۂ نگاہ ہے۔دوسرا یہ ہے کہ وہ لوگ جو خدا سے دور چلے گئے خدا کی کا ئنات میں تحقیق بھی کر رہے ہیں۔نئے سے نئے علوم بھی نکال رہے ہیں۔نوع انسان کی