خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 496 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 496

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۹۶ خطبہ جمعہ کے ردسمبر ۱۹۷۹ء ایم ایس سی پاس کیا۔اس طرح ترقی کرنے والے بھی دماغ ہیں۔یہ تو جو تجربہ کار ہیں وہ جانتے ہیں اور کئی ایسے بھی آتے ہیں جو سات ساڑھے سات سونمبر لے کے آتے ہیں اور دماغ ان کا ختم ہو چکا ہوتا ہے۔پھر آگے تنزل کی سیڑھیاں اترتے ہیں۔ترقی نہیں کرتے لیکن وہ استثناء ہیں ان کا پتا لگ جاتا ہے تو جماعت کے سامنے اس بچے کی کل کی گفتگو کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ کھول کر بات کروں آپ سے۔جو ہے اوپر کی ایک لائن کھینچیں آپ کہیں کہ اس سے اوپر جو ہے اسے ہم نے بہر حال سنبھالنا ہے۔اگر اور نہیں انتظام اس کا۔یعنی جن کا انتظام ہے کئی ایسے چوٹی کے ہیں۔اب جس لڑکی ، اپنی بچی کا میں نے کہا، اس کو بڑا وظیفہ دے دیا آکسفورڈ والوں نے ، وہ گھبرائی ہوئی تھی اس کو پتا نہیں تھا وہاں کے اخراجات کا تو اس کے والد ا اپنی بیٹی کو میرے پاس لے آئے میں نے اس کو سمجھایا بالکل فکر نہ کرو۔اتنا وظیفہ ہے کہ تم سے ختم نہیں ہوگا اور اتنی ذہین، اس نے اپنے کوائف بھیجے ، ابھی فزکس میں آگے دو لائنز تھیں جن میں سے ایک لے سکتی تھی تو وہ ڈانواں ڈول تھی کہ کون سی لائن لے، اس نے وہاں ، جس سے خط وکتابت تھی ، انچارج تھا داخل ہونے کا اس نے اس کو لکھا تم کوئی فکر نہ کر و۔یہاں آ جاؤ۔جو مرضی لے لینا داخل ہو جاؤ۔کمال گن که عزیز جہاں شوی کوئی رستے میں اس کے روک ہی نہیں تھی۔ویسے میں نے اسے مشورہ دیا کہ یہ لائن لو۔تمہارے لئے اچھی رہے گی۔اس وقت وہ نہیں مانی۔میں نے کہا ٹھیک ہے جدھر جانا چاہتی ہو جاؤ لیکن وہاں جا کے حالات دیکھ کے اس نے وہی لائن لی جس کا میں نے پہلے اسے مشورہ دیا تھا۔بہر حال انشاء اللہ دعا کریں اللہ اسے توفیق دے آگے سے آگے نکلنے کی۔ایسے دسیوں ہمارے نوجوان ہیں بلکہ بیبیوں کہنا چاہیے جو آگے نکل گئے یا جو آ رہے ہیں اس وقت سٹڈی کر رہے ہیں لیکن دسیوں کی تو تعداد جو ہے وہ تو ہمارے لئے کافی نہیں ہے ہمیں تو اگلے پندرہ بیس سال کے اندر پہلے سینکڑوں اور پھر ہزاروں کی تعداد میں ٹاپ (Top) کا سکالر (Scholar) چاہیے ہر مضمون میں، اس واسطے کہ اس دنیا میں آج کے انسان نے علم کی اہمیت اور اس کے مقام کو پہچانا ہے اور علم نے اس کو نقصان بھی پہنچایا۔یعنی علم کے میدان میں