خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 492
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۹۲ خطبہ جمعہ کے ردسمبر ۱۹۷۹ء اثر ہے کہ اس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔پھر تیسرے سال میں غالباً ساٹھ ستر ہزار یا کتنا تھا وہ اس نے مانگا پھر میں (نے ) جماعت کو کہا دو اس کو۔پھر وہ غالباً اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا کیونکہ اس کے اگلے سال کا پھر مجھے علم نہیں۔اس کو ضرورت نہیں پڑی ہوگی۔تو ایسے جو ہیں۔ایک بچہ یہاں تھا۔اس نے ایم ایس سی فزکس میں یونیورسٹی کا ریکارڈ توڑا۔اس کا خاندان اس کا خرچ نہیں برداشت کر سکتا تھا اس کا وہاں سارا خرچ پی ایچ ڈی کے لئے ہم نے مقرر کر دیا۔دیں گے۔یہ ۱۹۷۶ء کی بات ہے اس وقت وہ وہاں میرے ہوتے ہوئے۔میں دورہ پر تھا ، لندن میں تھا، جب وہ وہاں پہنچا ، مجھے کہنے لگا آکے ایک دن کہ مجھے جماعت نے وظیفہ دیا ہے پی ایچ ڈی کرنے کے لئے۔انگلستان کی کوئی یو نیورسٹی مجھے پی ایچ ڈی میں داخل نہیں کر رہی۔وہ کہتے ہیں پہلے ایم ایس سی کرو۔ہمارا ملک شاید وہاں بدنام ہے یا کیا قصہ تھا واللہ اعلم میں نے سوچا، میں نے اس کو کہا ٹھیک ہے۔میں نے کہا اگر یہ تمہیں داخل نہیں کر رہے تو ان کا حق ہے اس لئے کہ تمہیں اور تمہارے ذہن کو یہ پہچانتے نہیں۔وہ کہتے ہیں نہیں داخل کرنا۔اپنے ملک کے بچے کی سیٹ تمہیں کیوں دے دیں، پی ایچ ڈی کی۔تو وہاں مشورہ کیا۔گلاسکو کی یو نیورسٹی اس کو ایم ایس سی میں داخل کرنے کے لئے تیار تھی۔کچھ اور یو نیورسٹیز سے بھی مشورہ کیا ، انہوں نے کہا کہ گلاسکو کی یو نیورسٹی زیادہ اچھی ہے۔میں نے اسے کہا میری طرف سے اجازت ہے تم کو۔ایم ایس سی میں جا کے داخل ہو جاؤ۔ساتھ ہی میں نے اسے یہ کہا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ فضل کرے گا کہ چھ مہینے کے اندر اندر وہ تمہیں خود کہہ دیں گے کہ چلو جاؤ پی ایچ ڈی میں۔جب تمہارے ذہن کو پہچانے لگیں گے ، پھر وہ کہیں ٹھیک ہے ، آؤ پی ایچ ڈی کرو۔تین مہینے کے بعد انہوں نے کہا بدل لو اپنا کورس۔ایم ایس سی کی بجائے پی ایچ ڈی کر لو اتنا ذہین تھا۔ابھی اس نے پی ایچ ڈی ختم نہیں کی تھی۔آکسفورڈ اور کیمرج دنیا کی چوٹی کی دو یو نیورسٹیز ہیں۔انہوں نے اسے لیکچر دینے کے لئے بلانا شروع کر دیا اور ابھی امتحان اس نے پاس نہیں کیا تھا۔تو ایسے ذہین جو ہیں ان کو ہم کیسے ضائع کر سکتے ہیں۔صرف اپنے فائدہ کے لئے نہیں ، نوع انسانی کا یہ فائدہ ہے کہ ہر ذہن جو خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو اس کی صحیح نشو نما کی جائے تاکہ نوع انسانی