خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 491
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۹۱ خطبہ جمعہ کے دسمبر ۱۹۷۹ء رکھنا چاہیے، ایک صحت مندایم ایس سی پیدا ہو جائے اس ملک کی خدمت کے لئے جو اس سے اوپر کے دماغ ہیں وہ آگے دوحصوں میں بٹتے ہیں۔ایک وہ جو بہت اچھا نہیں لیکن کافی اچھا ہے۔بہت اچھا نہیں کہ سارا بوجھ اس کی اعلیٰ تعلیم (Higher Studies) کا جماعت احمد یہ برداشت کرے اور یہ فرض ہو لیکن اتنا بڑا بھی نہیں کہ اس کو نظر انداز کر دیا جائے اگر اس کا خاندان اس کے اخراجات میں حصہ دار بنے تو کچھ جماعت کو ادا کرنا چاہیے۔باقی بوجھ وہ اٹھا ئیں۔جو ایسا طالب علم ہے جو بہت ہی اچھا ہے اس کا اگر سارا بوجھ بھی اٹھانا پڑے۔بیدا گر کے ساتھ میں کہہ رہا ہوں ویسے۔اگر سارا بوجھ بھی اٹھانا پڑے تو جماعت کو اٹھانا چاہیے لیکن چونکہ وہ بہت اچھا ہے اس لئے اگر اس کا خاندان یہ کہے کہ ہم کچھ بھی نہیں دینا چاہتے باوجود اس کے کہ ہم مالدار بھی ہیں تو یہ غلط ہے۔جس حد تک بھی وہ اس کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں ان کو اٹھانا چاہیے اور اس کے علاوہ جو بوجھ بھی ہے وہ جماعت کو اٹھانا چاہیے۔ذہن کو ضائع نہیں ہونے دینا۔یہ آپ عہد کریں۔جو ذہن اللہ تعالیٰ نے ایک احمدی خاندان میں پیدا کیا ہے وہ ضائع نہیں ہوگا۔اب میں اوپر کے جو دو حصے بنتے ہیں۔دو گروہ بنتے ہیں ان کے متعلق بات کر رہا ہوں۔ایک وہ ہے کہ جن کا سارا بوجھ بھی جماعت کو اٹھانا پڑے تو جماعت کو اٹھا لینا چاہیے۔اس کی ایک مثال دیتا ہوں اس میں کچھ غلط فہمی بھی ہوئی تھی۔ایک بڑا ذہین بچہ، وہ میرے پاس آیا اس وقت مجھے خیال بھی نہیں تھا کہ یہ سارا بوجھ ڈالنا چاہتا ہے کہتا ہے کہ میں امریکہ جانا چاہتا ہوں اور اس کے متعلق رپورٹ یہ تھی کہ وہ بہت اچھے ذہن کا ہے تو خیال یہ تھا کہ امریکہ میں ایک سال کے بعد کہیں نہ کہیں سے وظیفہ مل جاتا ہے میں نے کہا ٹھیک ہے چلے جاؤ۔اس کو یہاں سے دے دی کافی رقم پندرہ بیس ہزار روپے کی دے دی۔پھر اگلے سال اس نے مطالبہ کیا پھر وہاں کی جماعت سے کہا اس پر خرچ کرو۔پھر تیس چالیس ہزار، وہاں بھی تعلیم پر خرچ بڑھتا چلا جارہا ہے سال بسال۔پھر اس کا مطالبہ آیا۔پھر میں نے اس کو لکھا کہ تم اس کو لکھا کہ تم نے جوشکل پیش کی تھی وہ کچھ اور تھی اور اب تم مانگ زیادہ رہے ہو۔میں نے جماعت کولکھا کہ پتا کریں کیوں اب ہم دیں؟ تو جماعت کے جو سمجھ دار لوگ تھے انہوں نے کہا یہ اتنا ذہین ہے اور یو نیورسٹی میں اس کا اتنا