خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 473 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 473

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۷۳ خطبه جمعه ۲۳ / نومبر ۱۹۷۹ء ہمیں بتایا کہ مسجد حرام یا بیت اللہ جسے ہم کہتے ہیں اس کی عظمت اس کی شان کیا ہے اور اس عظیم شان والی مسجد بیت الحرام کی بے حرمتی کی گئی جس نے ہمیں دکھ دیا، جس نے ہمیں آستانہ باری پر جھکا دیا اور دعائیں کرنے کی توفیق دی اس کی عظمتوں کو ہمیشہ یادرکھیں۔وہ آیات جن میں یہ منصوبہ بیت اللہ سے تعلق رکھنے والا بیان ہے وہ سارا منصوبہ جو ہے وہ شروع ہوتا ہے اس مرکزی نقطہ سے یعنی مسجد حرام سے اور اس کا دائرہ بڑھتے بڑھتے ساری دنیا میں پھیلتا اور بنی نوع انسان کو اپنے احاطہ میں لے لیتا ہے۔ہمارے وجود کا ذرہ ذرہ اس منصوبہ پر قربان۔ہماری تو زندگی کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہماری کوششوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں کچھ اس طرح نازل ہوں کہ نوع انسانی کے دل اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور رسالت کے لئے جیتے جائیں اور توحید کے جھنڈے تلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں نوع انسانی کو لا بٹھایا جائے۔ہم تو ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس پاک اور مطہر گھر کی بے حرمتی جس کا تعلق اس عظیم ہستی ، اس عظیم وجود محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے برداشت نہیں کر سکتے لیکن ہمارے پاس جو ہے ہم وہی پیش کر سکتے ہیں۔ہمارے پاس ایک عارف دل ہے جو حقیقت کو سمجھتا اور ایسے حالات میں بے چین ہوتا ہے۔ہمارے پاس وہ آنسو ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور جب ہم جھکتے ہیں تو سجدہ گاہ کو تر کر دیتے ہیں۔ہمارے پاس وہ پر سوز دعا ہے کہ جب وہ آسمانوں کی طرف بلند ہوتی ہے تو عرشِ الہی کو ہلا دیتی ہے۔پس تمہاری خیر خدا منائے گا۔خدا ہمیشہ تمہیں خیر سے رکھے تم خدا کے لئے اور اس کے رسول کے لئے اپنی زندگیاں گزارو اور اللہ تعالیٰ کے ہر قسم کے انعام کو حاصل کرو۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔موسم بارش کا ہے اللہ تعالیٰ رحمت کی بارش کرے۔اس وجہ سے میں نمازیں جمع کرا دوں گا۔روزنامه الفضل ربوه ۵/ دسمبر ۱۹۷۹ ء صفحه ۲ تا ۴)