خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 465
خطبات ناصر جلد هشتم خطبہ جمعہ ۱۶ / نومبر ۱۹۷۹ء شکل میں تم مانگ رہے ہو نہیں دے گا ، وہ عَلامُ الْغُيُوبِ ہے اس سے بہتر شکل میں تمہاری دعا کو قبول کرے گا۔تو جب خدا سے مانگنا ہے تو اگر مگر نہیں۔خدا سے مانگو تو اس طرح مانگو کہ دامن پکڑ لو اس کا۔خدا سے کہو کہ اے خدا میں اقرار کرتا ہوں کہ میرے جیسا کمزور انسان حقیر انسان، گناہگار انسان کو ئی نہیں ، پر تیرا دامن میں نے پکڑا ہے دیے بغیر مجھے واپس کر دے گا ؟ اور اگر وہ دعا قبول نہ کرے تو کوئی شکوہ نہیں۔مالک ہے وہ۔شکوہ تو اس سے ہوتا ہے جس پر آپ کا احسان ہو کہ ہم نے تم پر احسان کیا تم نے جواب میں احسان نہیں کیا۔یہاں تو احسان ہی احسان ہیں اس کی طرف سے اور گناہ اور کمزوریاں اور غفلتیں اور کوتاہیاں ہیں ہماری طرف سے۔نہیں مانتا اس کی مرضی لیکن مایوس نہیں ہونا۔پھر مانگو ، پھر مانگو ، پھر مانگو۔ایسے بزرگ گزرے ہیں کہ سالہا سال تک ” نہ سننے کے بعد پھر ایک دن یہ آواز آ گئی کان میں کہ پچھلے نو سال کی ”نہ “ کو ”ہاں“ میں میں نے بدل دیا اور ساری دعائیں قبول کر لیں۔اس وقت پہلی دعا جو ہے وہ انسان کے لئے ہمیں مانگنی چاہیے۔بہت سخت پریشانی کی حالت میں ہے انسان۔کوئی سمجھتے ہیں کوئی نہیں سمجھتے۔جو سمجھتے ہیں وہ بھی جو نہیں سمجھتے وہ بھی کم ہیں جو خدا کو جانتے ہیں۔ان کو کچھ پتا نہیں کہ ان اندھیروں سے نکلنے کا راستہ کون سا ہے اور وہ کون سی ہستی ہے جس کا درہم کھٹکھٹا ئیں تو ہمارے لئے روشنی وہاں سے ظاہر ہو جائے لیکن ہم تو جانتے ہیں کہ تمام ظلمات کو دور کر کے آسمانوں اور زمین کو نور سے بھر دینے کی طاقت اللہ تعالیٰ کو ہے اور ایک کن کے ساتھ وہ ایسا کر دیتا ہے۔بتوں کی پرستش کرنے والے یا خدا تعالیٰ کے وجود سے انکار کرنے والے اور یہ دعویٰ کرنے والے کہ ہم زمین سے خدا کا نام اور آسمانوں سے خدا کے وجود کو مٹادیں گے ان کا دل بھی ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ) اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں اس طرح ہے۔اس طرح کر دے انگلی تو اس کا زاویہ اور ہو گیا۔اس طرح کر دے تو اور ہو گیا۔( حضور نے ہاتھ کے اشارے کے ساتھ بتایا ) دل بدل جاتے ہیں۔غصے سے بھرا ہوا عمر ، محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے گھر سے نکلا تھا اور جب وہاں پہنچا تو ہاتھ بیعت کے لئے آگے بڑھا دیئے عظیم تبدیلی پیدا ہوگئی۔خدا تعالیٰ نے ایسے نظارے ہمیں دکھائے ہیں