خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 462
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۶۲ خطبہ جمعہ ۱۶ / نومبر ۱۹۷۹ء تگ و دو منت سماجت کرنی پڑتی ہے چھٹی لینے کے لئے۔وہ یہاں آکر تو مجمع میں مل گئے۔ایک قطرہ سمندر میں جا شامل ہوا لیکن ہیں تو جلسے کے مہمان۔اس کا ریکارڈ رکھا جانا چاہیے۔یہ ریکارڈ جو ہے وہ کسی نمائش کے لئے نہیں۔یہ ریکارڈ ہے آنے والی نسلوں کو حقائق بتانے کے لئے ورنہ آنے والی نسلیں کہیں گی کہ عجیب تھے ہمارے بزرگ ہمیں بتایا ہی نہیں کہ اس قسم کے لوگ کتنے غیر ممالک سے آئے اور جلسے میں شامل ہوئے بڑے دلچسپ ان کے لئے ہوں گے یہ اعداد و شمار۔یہ گوشوارے ان کو دینی اسباق دینے والے جذ بہ قربانی پیدا کرنے والے ہیں۔ان کے مربی ان کو جب یہ باتیں بتائیں گے تو اگر انہوں نے محض وفود کی باتیں جو ر ہائش گاہوں میں ٹھہر نے والے ہیں سامنے رکھیں تو جو دوسرے ہیں اور جو شائد ان سے پانچ گنے شائد دس گنے شائد ہیں گنے زیادہ ہوں اور ان کو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے لیکن اس کی ذمہ داری صرف ہماری نہیں ہے کہ نظر انداز کر دیا گیا اس کی ذمہ داری باہر سے آنے والوں پر ہے۔انہوں نے کوتاہی کی ہے کہ وہ اطلاع نہیں دیتے اس لئے میں باہر سے آنے والوں سے کہتا ہوں کہ آپ جلسہ سالانہ کے دفتر کو تحریری اطلاع دیں گے اس سال کہ ہم فلاں ملک سے جلسے پر آئے ہیں اور کوئی ایک باقی نہ رہے جس نے اطلاع نہ دی ہو۔ایک بات اور جو اس وقت میں کہنا چاہتا ہوں وہ تو ہے ہماری جان۔وہ ہے دعا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آ کے ہمیں سمجھایا کہ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی عظمتوں اور اس کی رفعتوں اور اس کی کبریائی کو کس طرح بیان کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلامی تعلیم کھول کے ہمارے سامنے رکھی۔اگر اللہ نے توفیق دی تو اس کے ایک حصے پر انشاء اللہ اگلے خطبے میں میں روشنی ڈالوں گا۔اتنی عظیم ہستی لیکن دنیوی عقل بہکی تو اس وقت انہوں نے اپنے غلط عقائد بنالئے اللہ کی ذات کے متعلق بنیادی چیز تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بتا سکتا ہے۔اتنی عظیم اور وسعتوں والی ہستی ہے۔میں اور تم کیسے اس کے متعلق بات کر سکتے ہیں اور اللہ نے قرآن عظیم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کر کے اپنی ذات اور صفات کے متعلق جو بتایا ہے وہ نہ ختم ہونے والا سمندر ہے۔معرفت پیدا کرنے کے لئے اور ہمارے عرفان کو بڑھانے کے لئے