خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 454 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 454

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۵۴ خطبہ جمعہ ۹ / نومبر ۱۹۷۹ء سے، ان کے اعمال کے لحاظ سے، ان کے تقویٰ کے لحاظ سے، ان کے جہاد کے لحاظ سے ان کی ہجرت کی کوششیں کہ گند نہ ہمارے قریب آئے ، اس کے لحاظ سے وہ ان کو جزا دے گا اور اسی نسبت سے جو دشمنیاں ہیں اس کے مطابق دشمن اس کی گرفت میں ہیں اس سے باہر نہیں نکل سکتے۔اس دنیا میں بھی اس کی گرفت ظاہر ہوتی ہے جب وہ چاہے جب ہم چاہیں نہیں۔جب وہ چاہے اور مرنے کے بعد تو اس کی گرفت جس پر وہ چاہے وہ ظاہر ہو جائے گی۔ہمیں تو یہ خوشی ہے کہ ہم سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ توحید حقیقی ہو ، عزیز کے ساتھ تعلق ہو ، حمید کے ساتھ تعلق ہو ، تو کوئی گندگی، کوئی نا پا کی کوئی پلیدگی تمہارے جسم اور اخلاق اور روح کے ساتھ لگی ہوئی نہ ہو۔تبھی حمید کے تم بندے بنو گے نا۔اور متصرف بالا رادہ ہے وہ قادر خدا تم بھی معمور الاوقات بنو گے وہ مطالبہ یہ کر رہا ہے۔خدا تعالیٰ کا متصرف بالا رادہ ہونا کہ ہر چیز کے متعلق چھوٹے چھوٹے پتے کو بھی براہ راست اس کا حکم آنا کہ گر یا نہ گر۔یہ ہمیں سبق سکھاتا ہے کہ ایک لحظہ بھی اپنی زندگی کا ضائع نہ کرو اور خدا کی راہ میں اس کے فضل کو حاصل کرنے کے لئے اپنی معمور زندگی گذار و اور جس طرح اس کے احاطہ علم سے کوئی چیز باہر نہیں اس کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ہم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ خود سوچ کے، پڑھ کے جو ریسرچ کرنے والے ہیں وہ ہمہ تن، ہمہ وقت مصروف ریسرچ ، مصروف تحقیق رہ کے خدا تعالیٰ کے قانون اور خدا تعالیٰ کے تصرف بالا رادہ جو ہے بڑا عظیم مضمون ہے یہ چھوٹی سی مثال ابھی میں نے درخت کے پتوں کے گرنے کی دی ہے متصرف بالا رادہ ہے، بالکل۔بڑا غور کیا اس مادی دنیا پر اور سوائے اس کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات متصرف بالا رادہ ہے۔تم بھی دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا جلوہ اس کا متصرف بالا رادہ ہونے کے لحاظ سے حکم تمہارے حق میں نکلے اور تم اس کی قانون کی گہرائیوں اور اس کے حسن کو جاننے والے اور دنیا تک پہنچانے والے ہو اور جو شہید ہے جس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔اس سے دعا کرو کہ اے خدا! جو غلطیاں ہوئیں جو کوتاہیاں ہوئیں جو کمزوریاں ہوئیں وہ بھی تو جانتا ہے۔تجھ سے ہم چھپا تو نہیں سکتے مگر تجھ سے مغفرت کی دعا تو مانگ سکتے ہیں۔تو ا پنی مغفرت کی چادر کے نیچے ہمیں دبا لے اور جو اگر کوئی ایسا عمل ہوا جسے تو نے پسند کیا اور رد نہیں کیا وہ