خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 31 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 31

خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۱ خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۹ء پہنچانے کے لئے پیدا کی ہے، اس لئے کوئی چیز بھی اور کسی چیز کا کوئی ذرہ بھی ضائع نہیں کرنا۔مثلاً اسلام نے حلال پرندوں کا شکار کرنے کی اور ان کی جان لینے کی اجازت دی ہے لیکن کہا کہ جتنی ضرورت ہو اتنا شکار کرو یہ نہیں کہ ضرورت دس کی ہے لیکن سو مارو اور نوے پھینک دو اور دس کو استعمال کرو۔اگر کوئی ایسا شخص ہے جو سو مارتا ہے اور دس گھر میں استعمال کرتا ہے اور نوے اپنے دوستوں واقفوں اور ہمسایوں وغیرہ میں تقسیم کر دیتا ہے تو وہ ضرورتِ انسانی کو پورا کرتا ہے لیکن اسلامی تعلیم نے کسی چیز کو ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی۔یہ صفت رحمانیت کی مظہر ہے جو ہمیں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے کمال کو پہنچی ہوئی نظر آتی ہے۔پھر حیوان ہیں جو انسان کی خدمت کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔حیوانات میں سے بعض ایسے ہیں جو زندہ رہ کر انسان کی خدمت کرتے ہیں ان کو مارنے کی اجازت نہیں اور بعض حیوانات ایسے ہیں جن کو مار کر انسان کی خدمت لی جاتی ہے۔مثلاً وہ کھانے کے کام آتے ہیں یا مثلاً ادویہ میں کام آتے ہیں یا بعض اور کاموں میں انسان حیوانوں کو استعمال کرتا ہے۔اس صورت میں ان کی جان لینے کی اجازت ہے۔پس بوقت ضرورت انسانی خدمت کے لئے جان لینے کی اجازت ہے لیکن اس جانور کے متعلق بھی کہ جسے ذبح کر کے کھانے کی اجازت ہے یہ اجازت نہیں کہ اسے دکھ دیا جائے اور تکلیف پہنچائی جائے۔پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم حیوانات کے لئے بھی رحمت ہیں۔اس لئے کہ جس غرض کے لئے ان کے رب نے انہیں پیدا کیا اُس غرض کو پورا کرنے کی تعلیم دی اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے انہیں ضیاع سے بچایا اور تکلیف اور دکھ سے بچا یا لیکن انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کی اجازت دی۔اور آپ انسانوں کے لئے بھی رحمت ہیں جیسا کہ فرما یا عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ اس پر سخت گراں گذرتا ہے کہ انسان کو تکلیف پہنچے۔اسلامی تعلیم نے ہر انسان کو خواہ وہ بت پرست ہی کیوں نہ ہو تکلیف سے بچانے کی ہدایت دی ہے اور یہاں تک کہا ہے کہ لَا تَسُبُوا الذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ الله (الانعام : ۱۰۹) کہ جو لوگ خدا کے شریک بناتے ہیں ان کے شرکاء کو بھی (باوجود اس