خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 439
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۳۹ خطبہ جمعہ ۲ / نومبر ۱۹۷۹ء انسان کہتا ہے رہنا اے ہمارے حقیقی رب ! اے رب کریم !! ہم بھٹکے ہوئے تھے ، ہمیں تو نے روشنی دکھائی اور اب ہم تیری طرف لوٹتے ہیں۔اس معنی میں اس ندا اور التجا میں تو بہ کا ایک پہلو بھی ہے لیکن جو ربنا کہنے والے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کا ذکر پہلی آیت میں ہے انہیں تو غیر اللہ سے ( انہوں نے جوار باب بنالئے اللہ کے علاوہ ان سے ) انہیں چھٹکارا نہیں ملا ، وہ اللہ پر بھی ایمان لاتے ہیں بظاہر، اپنے حیلوں پر اور دغا بازیوں پر بھی بھروسہ رکھتے ہیں جھوٹ اور افترا پر ان کا تو گل ہے۔اپنے علم اور قوت پر ان کو گھمنڈ ہے، اپنے حسن یا مال یا دولت پر ان کو فخر ہے، چوری اور راہزنی اور فریب کو انہوں نے اپنا رب بنایا ہوا ہے اور ساتھ ہی رب حقیقی کو بھی پکارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس دنیا کا مال ہمیں دے، مال حلال ہو یا حرام ہو ہمیں دنیا کا مال چاہیے، اس دنیا کا اقتدار دے خواہ وہ تیرے بندوں کی خدمت کرنے والا ہو یا نہ ہو، جو حیلے اور دغا بازیاں ہم کریں، جو جھوٹ اور افتر اہم باندھیں، جو علم ہم نے حاصل کیا ہو ، جو قوت تو نے ہمیں عطا کی ہے اس کو صحیح استعمال کریں یا غلط ہماری منشا کے مطابق ان کا نتیجہ نکال اور اس دنیا میں ہمیں کامیاب کر ، ہمارے ذاتی محسن جسمانی حسن کے لوگ عاشق بنیں اور حقیقی حسن جو اخلاق کا حسن، روح کا حسن ہے وہ ہم میں پیدا ہو یا نہ ہو وغیرہ وغیرہ سینکڑوں بت ہیں جو بنائے ہوئے ہیں۔رب کے علاوہ سینکڑوں رب ہیں جن کی پرستش کرتے ہیں اور جورب حقیقی ہے اس کی دھندلی سی تصویر کوجس کی حقیقت اور معرفت ابھی انہوں نے حاصل نہیں کی اس کو بھی اپنے سامنے رکھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں اور دعا یہی ہوتی ہے کہ یہی دنیا ہے سب کچھ اس دنیا میں صحیح یا غلط طور پر ہمارے رفعتوں کے سامان دنیوی لحاظ سے کر دے اور ہمیں اونچا کر دے، ہماری قوت کو زیادہ کر دے خواہ وہ ظالمانہ ہی کیوں نہ ہو۔ہمارے فریب کو اور ہماری چوری کو ننگا نہ ہونے دے اور جو ہم فائدہ حاصل کریں چوری کے ذریعہ سے وہ مال ہمارے پاس ہی رہے اصل مالک کے پاس واپس نہ جانے پائے۔یہ دعا ہے ان کی جب وہ کہتے ہیں کہ اس دنیا کی چیز ہمیں دے دے اس حال میں کہ آخرت کا، خدا کے پیار کا ، خدا کی نعمتوں کا ان کے دماغ میں صحیح تصور قائم نہیں ہوتا۔وہ جو