خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 437 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 437

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۳۷ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۹ء اسلام کہتا ہے کہ دنیا میں رہ کر خدا کے بنو اور اسی کے لئے زندگی گذارو خطبه جمعه فرموده ۲ /نومبر ۱۹۷۹ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی:۔فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا وَ مَالَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ - وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ - (البقرة : ۲۰۱، ۲۰۲) ترجمہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ کہتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس دنیا کے آرام و آسائش دے اور آخرت کے متعلق ان کو نہ کوئی یقین ہوتا ہے اور نہ دعائیں ہوتی ہیں نہ اس کے لئے کوشش ہوتی ہے۔ان کی ساری توجہ اور ان کے اعمال کا سارا دائرہ اس دنیا تک محد و در ہتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آخرت میں ان کا کچھ بھی حصہ نہیں ہوتا۔ایک تو لوگوں کا گروہ یہ ہے۔انسانوں کا ایک دوسرا گروہ ہے جو یہ دعا کرتا ہے۔فرمایا: ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس دنیا کی زندگی میں بھی آرام و آسائش اور کامیابی و فلاح عطا کر اور اخروی زندگی میں بھی خوشحالی کے سامان ، کامیابی کے سامان اور اپنی رضا کے حصول