خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 26 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 26

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۶ خطبہ جمعہ ۱۲ / جنوری ۱۹۷۹ء پیشگوئیاں ہیں ، وعید ہیں ، ان کا بھی کھول کر بیان کر دینا۔اگر تم نہیں مانو گے تو انگریزی میں کہتے ہیں Face کرنی پڑیں گی۔یہ باتیں تمہارے سامنے آئیں گی، پھر اور اس کے تم ذمہ دار ہو گے دکھ اٹھانے کے۔وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ اس کے معنے ہیں إِنَّمَا عَلَيْنَا مُحَاسَبَةُ أَعْمَالِهِمْ السَّيِّئَةِ کہ ان کے بداعمال کا محاسبہ کرنا ہمارے ذمہ ہے۔اسی طرح ہمارے ذمہ ہے الْمُؤَاخَذَةُ بِهَا کہ اس کی سزا ان کو دیں۔محاسبہ کریں اور سزا دیں، یہ دو مفہوم بیان کئے اس تفسیر والے نے ، یہ ہمارا کام ہے دُونَ جَبْرِهِمْ عَلَى اِتِّبَاعِكَ اور ہم نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان پر جبر نہیں کریں گے کہ وہ تیری اتباع کریں یعنی وَ عَلَيْنَا الْحِسَابُ میں خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ بھی جبر نہیں کرے گا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم رسول کی اتباع کریں۔جبر نہیں کرے گا۔جبر کے بعد تو جزا وسزا کا سوال ہی نہیں رہتا۔یہ جو ہے جبر یہ جزا وسزا کی نفی ہے۔پھر نہ جزا ہے نہ سزا ہے۔نہ پرند کوملتی ہے کوئی جزا نہ سزا ، نہ کتوں کو ، نہ اونٹ کو، نہ گھوڑے کو ، نہ کسی اور چیز کو، نہ پتھروں کو ، نہ ہیروں کو ، نہ جواہرات کو۔یہ تو جہاں آزادی ضمیر اور مذہبی آزادی ہے وہاں سوال پیدا ہوتا ہے عقلاً کہ انسان خود اپنی مرضی سے جو کام کرتا ہے جس کے متعلق خدا کا رسول کہتا ہے کہ خدا کی نگاہ میں اچھا ہے تو اگر خدا کی نگاہ میں اچھا ہے تو خدا مجھے کیا صلہ دے گا، یا اگر خدا کی نگاہ میں بُرا ہے تو مجھے کس قسم کی عقوبت سے ڈرنا چاہیے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں بھی ان پر جبر نہیں کروں گا کہ تیرے اوپر ایمان لائیں۔ہاں محاسبہ کروں گا اور مؤاخذہ کروں گا۔نیز میں یہ بھی نہیں کروں گا ( انْزَالِ مَا اقْتَرَحُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ ) کہ جو اقتراحی معجزات تجھ سے مانگتے ہیں وہ میں تجھے دے دوں۔خدا تو خدا ہے۔وہ لوگوں کے کہنے پر نہ معجزہ دکھاتا ہے نہ لوگوں پر جبر کرنے کا اس نے دستور بنایا ہے۔یہ جو منصوبہ ہے بنی نوع انسان کی پیدائش اور خلق کا ، اس منصوبہ کی بنیادی حقیقت آزادی ضمیر اور مذہبی آزادی ہے اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے کہا تھا که وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : ۵۷ ) کہ میں نے انسان کو اس لئے بنایا کہ وہ اپنی کوشش سے میری صفات کا رنگ اپنی صفات میں بھرے۔میرا عبد بنے۔اگر اس قسم کی مخلوق کو عبد کہا جائے جیسے مثلاً فرشتے ہیں۔يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل: ۵۱) که خدا جو حکم