خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 401
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۰۱ خطبه جمعه ٫۵اکتوبر ۱۹۷۹ء کی جو چیخ نکلی اس کے منہ سے وہ کسی کو بھی یاد نہیں ہوگی لیکن خدا کہتا ہے میں تمہیں اس وقت بھی جانتا تھا جب ابھی تم اپنی ماں کے پیٹ میں پوشیدہ تھے اس لئے فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُم تم پاکیزگی کا دعوی میرے سامنے مت کرو۔هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى خدا جانتا ہے کہ تم میں کون متقی ہے اور کون متقی نہیں ہے۔سورة ال عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ أَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَبِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وسووو وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم - (ال عمران: ۷۸) کہ بہت سے لوگ دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے بڑے بڑے عہد باندھتے ہیں۔قربانیاں کرنے کے خدا تعالیٰ سے عہد باندھتے ہیں۔ایثار کرنے کے، مال اس کے حضور پیش کر دینے کے، اپنے بچوں کو وقف کر دینے کے وغیرہ وغیرہ اور قسمیں کھاتے ہیں کہ جو انہوں نے عہد باندھا رب سے وہ ضرور پورا کریں گے لیکن پھر ایک وقت ان کی زندگی میں ایسا آتا ہے کہ وہ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلہ میں تھوڑی سی دنیوی قیمت لے لیتے ہیں۔دنیا کے اموال انہیں ان کے عہد اور ان کی قسمیں بھلا دیتے ہیں۔دنیا کی عرب تیں اور وجاہتیں اور انتخابات میں حاصل ہونے والے عہدے ان کو دنیا کی طرف کھینچ لیتے ہیں اور خدا سے دور لے جاتے ہیں۔اِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ أَيْمَانِهِمْ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دنیا میں تو وہ ایسا کر لیتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ ان کو اس قابل بھی نہیں سمجھے گا کہ ان کی طرف منہ کر کے ان سے بات کرے۔وَلَا يَنظُرُ اليهم اور نہ ان کی طرف نظرِ التفات سے دیکھے گا۔وَلا يُزکیھم بڑے بڑے دعوے ان کے اپنی زندگی میں تھے کہ ہم پاک مطہر ہیں لیکن ولا يزكيهم قیامت کے دن خدا اعلان کرے گا کہ میری نگاہ میں یہ لوگ پاک اور مطہر نہیں ان کو پاک نہیں ٹھہرائے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب اس نے مقذرکر رکھا ہے۔جو پاک