خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 25 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 25

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۵ خطبہ جمعہ ۱۲ / جنوری ۱۹۷۹ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خوبی سے انجام دیا ( بے شمار صلوات اور سلام ہوں آپ پر ) کہ قیامت تک اس کے اندر ہر قسم کی تبدیلی ، کمی اور بیشی کے دروازے بند کر دیئے۔بڑی محفوظ کتاب ہے۔خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ذریعہ بنایا خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا ، جس طرح اور بہت سے وعدوں کے پورا کرنے کا بنایا۔آپ کا فرض تو تبلیغ رسالت اور ادآء الامانة ہے لَا غَیر اس کے علاوہ کوئی فرض نہیں آپ کے اوپر جہاں تک لوگوں کا تعلق ہے۔وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ اور یہ کہتے ہیں اس کے معنی ہیں ہمارے ذمہ ہے حساب کرنا ان کا آئی مَجَازَاتُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - قیامت کے دن ان کا مؤاخذہ کرنا اور ان کو ان کی بدیوں کی سزا دینا۔حساب کے یہاں یہ معنی ہیں۔عَلَيْنَا الْحِسَابُ خدا کہتا ہے کہ حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔یعنی قیامت کے روز ان کی بدیوں کی سیئات کی سزا دینا لا عليك یہ تیرا کام نہیں ہے ان کی بدیوں کی سزا دینا۔اس واسطے فَلا يُهِنَّكَ اِغْرَاضُهُمْ اور اگر اعراض کرے کوئی تو اس کا کوئی خیال نہ کرو کہ یہ میری ذمہ داری تھی۔یہ کیا ہو گیا کہ یہ تو مان نہیں رہے۔تمہاری کوئی ذمہ داری نہیں منوانا۔وَلَا تَسْتَعْجِلُ بِعَذَابِهِمْ اور عذاب دینا جو ہمارا کام ہے اس میں بھی جلدی کرنے کی ضرورت نہیں۔اپنی حکمت کا ملہ سے جب وقت آئے گا ہم دے دیں گے اور روح البیان میں یہ بھی لکھا ہے کہ "التَّاوِيْلاتُ النَّجْمِيَّةُ “ میں ہے کہ حساب کے معنی صرف سزا نہیں بلکہ جزا وسزا ہے فِي الرَّةِ وَ الْقُبُولِ روح المعانی میں ہے۔یہ کہتے ہیں۔"إِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ أَى تَبْلِيغُ اَحْكَامِ مَا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ وَمَا تَضَيِّنَهُ مِنَ الْوَعْدِ وَالْوَعِيدِ۔۔۔وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ۔۔۔إِنَّمَا عَلَيْنَا مُحَاسَبَةُ أَعْمَالِهِمْ السَّيِّئَةِ وَالْمُؤَاخَذَةُ بِهَا دُونَ جَبْرِهِمْ عَلَى اتِّبَاعِكَ اَوْ انْزَالِ مَا اقْتَرَحُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ، یہ کہتے ہیں إِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ کے معنے ہیں کہ جو احکام ہم نے تجھ پر نازل کئے ہیں ان کو دنیا کے انسانوں تک پہنچانا جس کے معنے ہیں کہ جو ان کو مان لیں ان کے لئے بشارتیں بھی دی ہوئی ہیں قرآن کریم میں۔ان بشارتوں کا پہنچانا اور قرآن کریم کی شریعت میں جو انذاری