خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 392 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 392

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۹۲ خطبہ جمعہ ۲۸ ستمبر ۱۹۷۹ء ہے تو اس کی طرف داری نہ کر اور اگر مسلمان ہے تو اس کی طرف داری کر۔یہ کہا ہے کہ خیانت کرنے والا مسلمان ہے یا غیر مسلم ہے اس کی تم نے طرف داری نہیں کرنی۔خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ خیانت کرنے والے کو بھی اپنے پیار سے محروم کروں گا۔یہ اعلان نہیں کیا کہ خیانت کرنے والا اگر غیر مسلم ہے تو میں اپنے پیار سے محروم کروں گا اگر مسلمان ہے تو پھر میں اُسے اپنے پیار سے محروم نہیں کروں گا۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو خیانت کرنے والا ہے وہ اپنی تدبیر اور کوشش، حقیقی اور سچی کامیابی حاصل نہیں کرے گا۔یہ نہیں کہا کہ اگر وہ کافر ہے تو حقیقی اور سچی کامیابی حاصل نہیں کرے گا۔اگر وہ مومن ہے تو اسے معاف کر دیا جائے گا۔بالکل نہیں بلکہ مومن و کافر ہر دوکو ایک مقام پہ لا کے کھڑا کیا۔ہر دو کے حقوق قائم کئے۔ہر دو کی ذمہ داریاں بتا ئیں اور کوئی فرق نہیں مسلم اور غیر مسلم کا جیسا کہ میں نے بتایا موحد اور غیر مؤحد کا کوئی فرق نہیں کہ جی مشرک ہے اس واسطے اس کے حقوق ہم نے تلف کر لینے ہیں یہ کوئی نہیں ، نہ ان کو حق پہنچتا ہے حقوق کے تلف کرنے کا ، نہ کسی مسلمان کو حق پہنچتا ہے۔دوسرا ہے عدل۔جیسا کہ میں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم كَافَةً لِلنَّاسِ مبعوث ہوئے۔اس واسطے جہاں بھی کم کی ضمیر آئی ہے سوائے اس کے کہ وہاں قرینہ ہو کہ اس کو ہم 66 محدود کر دیں وہ سارے انسانوں کی طرف پھرتی ہے سارے قرآن کریم میں۔سورۃ شوری میں ہے وَأُمِرْتُ لِاعْدِلَ بَيْنَكُمُ (الشوری: ۱۲) مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ملا ہے کہ میں تم سب انسانوں کے درمیان عدل سے فیصلہ کروں اور بنی نوع انسان میں عدل کو قائم کروں۔تو بینم کی ضمیر جیسا کہ میں نے بتایا یہ سب انسانوں کی طرف پھرتی ہے قطع نظر اس کے کہ ان کے عقائد کیا ہیں یا ان کا علاقہ کیا ہے۔عدل کے معنی کئے گئے ہیں اَلتَّقْسِيطُ عَلَى سَوَآء۔برابر کا سلوک کرنا۔یہ مفردات میں ہے۔وَالْعَدُلُ ضَرْبَانِ دو قسم کا عدل ہے۔ایک مطلق عدل جس کو ہماری عقل اور ہماری فطرت عدل قرار دیتی ہے اور قرآن کریم اس کے اوپر روشنی ڈالتا ہے اور یہ وہ عدل ہے جس کے محسن کی عقل بھی گواہی دیتی ہے، انسانی فطرت بھی ، قرآن کریم کی تعلیم بھی اور وہ تعلیم مستقل