خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 387
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۸۷ خطبہ جمعہ ۲۸ ستمبر ۱۹۷۹ء کرتا اگر تو ان کی طرف سے جھگڑے گا تو تو بھی انہی میں شامل ہو جائے گا۔وو وَ انَّ اللهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ الْخَابِنِيْنَ (يوسف : ۵۳) اور یہ کہ خیانت کرنے والوں کی تدبیر کو اللہ تعالیٰ کامیاب نہیں کرتا۔خیانت کے معنی مفردات راغب میں یہ بیان ہوئے ہیں کہ الْخِيَانَةُ وَالنّفَاقُ وَاحِدٌ إِلَّا أَنَّ الْخِيَانَةَ تُقَالُ اِعْتِبَارًا بِالْعَهْدِ وَ الْأَمَانَةِ وَالنِّفَاقُ يُقَالُ اعْتِبَارًا بِالدِّينِ ثُمَّ يَتَدَاخَلَانِ فَالْخِيَانَةُ مُخَالَفَةُ الْحَقِّ بِنَقْضِ الْعَهْدِ فِي السّرِ وَنَقِيضُ الخِيَانَةِ الْاَمَانَةُ ،، خیانت اور نفاق ملتے جلتے ہیں اپنے معنی کے لحاظ سے اور عہد توڑنے اور ان میں خیانت کرنے کو خیانت کہا جاتا ہے اور نفاق کا لفظ جو ہے وہ ان کے متعلق بولا جاتا ہے۔منافق کے معنے ہیں مذہب کے لحاظ سے ، عقائد کے لحاظ سے، اپنے دعوی کے لحاظ سے، اپنے اعمال کے لحاظ سے نفاق کی بُو رکھنے والا وہ لکھتے ہیں کہ پھر یہ آپس میں دونوں مل جاتے ہیں خیانت اور نفاق اور خیانت کے معنے ہیں حق اور صداقت کی مخالفت کرنا۔عہد کو توڑ کے اور چھپ کے اور یہ امانت کے مقابلے میں آتی ہے۔ان آیات سے جو میں نے ابھی پڑھی ہیں مندرجہ ذیل باتوں کا ہمیں پتا لگتا ہے۔اول یہ فرمایا کہ اللہ کی خیانت نہ کرو اور خیانت امانت کی ضد ہے جیسا کہ ابھی میں نے بتایا اور امانت کے معنی ہیں مَا فَرَضَ اللهُ عَلَى الْعِبَادِ امانت کے ایک معنی یہ ہیں۔سو جب یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کی خیانت نہ کرو تو یہ حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرض عائد کئے ہیں اپنے بندوں پران فرائض کو ان ذمہ داریوں کو پورا کرو۔ان عہدوں کو جو تم سے لئے گئے ہیں ، نبا ہو۔ان حقوق کو جو قائم کئے گئے ہیں تم قائم کرو اور خدا تعالیٰ کے بندوں میں تفریق نہ کرو۔اور دوسرے ہمیں یہ فرما یا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت سے پیش نہ آؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو عہد لیا گیا ہے ہم سے اور جو ہم پر فرض کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو اُسوہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم تمہارے سامنے پیش کریں اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارو۔ہر وہ شخص جو اُسوۂ نبوی کو چھوڑ دیتا ہے اور ان قدموں کے نشانوں کی پیروی نہیں کرتا جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے قدم ہیں