خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 23 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 23

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۳ خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۷۹ء یہ ہے اسلام کا مفہوم ( وَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ) - پھر کہا وَ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ یہ جو عظیم نعمت کہ انسان کا دل خدا تعالیٰ کی ہدایت سے پر ہو جائے یہ تبھی تمہیں حاصل ہو سکتی ہے کہ خدا کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، کامل طور پر خدا کے حضور جھک جاؤ ، اپنا سب کچھ اسے پیش کر دو، تو تم ان لوگوں میں سے ہو جاؤ گے جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے کہا ہے يَهْدِ قَلْبَهُ ، تَوَلَّيْتُمْ۔لیکن فان مومن یہاں مخاطب ہیں اور وَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ کے بعد یہ کہا اگر تم پھر جاؤ ، منہ پھیر لو تو اس پھر جانے سے مراد نفاق وفسق کا پھر جانا بھی ہے اور ارتداد کا پھر جانا بھی ہے۔بڑا واضح ہے یہ مفہوم یعنی چاہے تم عملاً اسلام کی راہوں کو چھوڑ دو، چاہے اعلان کرو کہ ہم اسلام کی راہوں کو چھوڑ رہے ہیں، ہر دو حالت میں تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے رسول پر نہ تمہاری بداعمالیوں کی وجہ سے کوئی ذمہ داری ہے اور نہ اس وجہ سے کوئی الزام ہے آپ پر۔اور نہ تمہارے اسلام چھوڑنے کے نتیجہ میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر یا آپ کے ماننے والوں پر کوئی الزام آتا ہے۔فَإِنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلغ المدين جو فرض ہم نے اپنے رسول پر عائد و کیا ہے وہ صرف کھول کر ہماری بات کو بنی نوع انسان کے کانوں تک پہنچا دینا ہے۔اور سب سے آخری آیت جو میں نے منتخب کی ہے آج کے لئے ، وہ سورہ رعد کی آیت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَ اِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ وَ عَلَيْنَا الْحِسَابُ (الرعد: ۴۱) اور جس عذاب کے بھیجنے کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں ( یہ پہلے اس کا ذکر آ رہا ہے ) اگر ہم اس کا کوئی حصہ تیرے سامنے بھیج کر تجھے دکھا دیں تو تو بھی ان کا انجام دیکھ لے گا، اور اگر ہم اس گھڑی سے پہلے تجھے وفات دے دیں تو تجھے مَا بَعْدَ الْمَوْت اس کی حقیقت معلوم ہو جائے گی کیونکہ تیرے ذمہ ہمارے حکم اور پیغام کا صرف پہنچا دینا ہے اور ان کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ وَ عَلَيْنَا الْحِسَابُ یہاں خدا تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے کہ پہنچانامحمدصلی اللہ علیہ وسلم کا کام ہے، حساب لینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کام نہیں ، حساب لینا میرا کام ہے یعنی خدا کا کام ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کس ماں نے ایسا بیٹا جنا ہے جو کہے