خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 346 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 346

خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۴۶ خطبہ جمعہ ۱۷ /اگست ۱۹۷۹ء یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ذرا بھی سزا نہ ملے یعنی جنت میں جانے سے پہلے جہنم میں ہم ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہ جائیں۔یہ ہے عذاب سے بچنا اور دوسرا عذاب سے بچنا یہ ہے کہ جب جنت میں چلے جائیں اور ہماری عقل کے مطابق جو ہمارا استحقاق ہے کہ اتنا عرصہ ہم رہیں جنّت میں مثلاً اگر ایک نیکی کی ایک ہو جزا تو ستر سالہ نیکیوں کا استحقاق بنتا ہے ستر سالہ جنتی زندگی۔قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ دس گنا تمہیں دے دوں گا تو سات سو سال بن گئے۔یا اس سے بھی زیادہ اگر وہ چاہے۔عذاب سے بچانے کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا تیری مغفرت جب تک شامل نہ ہو یعنی تیرا یہ فیصلہ نہ ہو کہ مجھے تو نے کبھی بھی جہنم کا مزہ نہیں چکھانا اور اس لئے باوجود میری کوشش کے اور استحقاق کے نہ ہونے کے تو مجھے ابدی جنت میں بھیج دے۔میں اپنے اعمال کے زور پر جنت کا وارث نہیں بن سکتا اور عذاب سے بھی تیر افضل بچاتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ کوئی شخص اپنے اعمال کے نتیجہ میں جنت میں نہیں جاسکتا۔آپ کا مطلب یہی تھا کہ ابدی جنت میں ہمیشہ رہنے والی جنت میں کوئی شخص اپنے اعمال کی وجہ سے نہیں جاسکتا۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ بھی؟ آپ نے فرمایا میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر ابدی جنت میں نہیں جا سکتا۔یہ تو عقلی مونا اربعہ لگا لیں آپ۔اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جنتیوں میں سب سے بلند مقام رکھنے والے اور اس دنیا میں خدا کی نگاہ میں سب سے ارفع مقام رکھنے والے انسان ہیں۔آپ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو تو ابدی جنّت مجھے نہیں مل سکتی۔یہ ایک حقیقت ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر انداز نہیں کیا۔میرے اور تمہارے جیسا انسان کیسے نظر انداز کر سکتا ہے۔تو یہاں اس آیت میں بتایا کہ متقیوں کے لئے یہ مغفرت ہے کہ عذاب سے حفاظت خدا کہتا ہے نہ تمہیں جنت میں جانے سے پہلے میرا عذاب پہنچے گا نہ جنت میں جانے کے بعد میرا عذاب پہنچے گا۔اس واسطے بہت سارے مذاہب کا بطلان یہاں ہو گیا کیونکہ مغفرت ان کا جواب ہے یعنی خدا تعالیٰ کی قوتِ مغفرت، اس کی صفت غفور جو ہے وہ ضامن ہے کہ انسان جنت میں