خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 345 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 345

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۴۵ خطبہ جمعہ ۱۷ /اگست ۱۹۷۹ء ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دروازے کھلے ہوں گے اور ہوا سے دروازے ہل رہے ہوں گے کیونکہ اندر کوئی ہوگا ہی نہیں ، سب نکل چکے ہوں گے۔جنت میں چلے جائیں گے اپنی سزا بھگت کے اپنی اصلاح کے بعد، کوئی تھوڑے زمانہ کے بعد، کوئی لمبے زمانہ کے بعد۔لیکن اس سے بھی کسی کے دماغ میں دلیری پیدا نہ ہو کیونکہ ایک کروڑ سال کے بعد۔وہ جہنم سے نکل کے جنت میں گیا تو بے پرواہی کا کیا فائدہ جہنم تو وہ ہے جیسا کہ میں نے بتایا کہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی انسان برداشت نہیں کر سکتا یہ سوچنا کہ خدا تعالیٰ اسے جہنم میں ڈالے۔اس کی تو یہی خواہش ، یہی دعا، یہی کوشش اور اسلام پر عمل کرنے کا یہی مقصود ہے کہ خدا تعالیٰ کا پیار ملے اور ان لوگوں میں شامل ہو جن کے متعلق قرآن کریم میں آیا ہے کہ ان کو جہنم میں جلنے والی آگ کی آواز بھی نہیں پہنچے گی ، اتنے محفوظ ہوں گے وہ جہنم کی ایڈا سے۔یہ تو ہے جنت میں جانے سے پہلے کا عذاب۔پھر معافی مل گئی ، پھر ایک گروہ نکل گیا ، پھر دوسر انکل گیا، یہاں تک کہ سارے نکل گئے۔جنت میں جانے کے بعد کا عذاب عملاً ایسا نہیں ہوگا لیکن عقل ہمیں یہ کہتی ہے کہ اگر جنت کے قیام کے زمانے کا انحصار صرف انسان کی اپنی کوشش پر ہو کہ جتنی کسی انسان نے کوشش کی ، اعمالِ صالحہ بجالا یا ، اپنے نفس کو قابو میں رکھ کر خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کی ، اپنی سی کوشش کر کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم رنگ بنا، سب کچھ کیا لیکن محدود زندگی میں، بڑی محدود زندگی میں ، بیس سال، تیس سال، پچاس سال ستر سال، اسّی سال کتنے سال ! کوئی زندگی ہے۔اس محدود زندگی میں جتنے بھی کوئی زیادہ عمل کرلے، ابدی جنت کا وہ اپنے اعمال کے نتیجے میں وارث نہیں بنتا۔اسی وجہ سے بعض مذاہب نے یہ کر دیا کہ اپنی کوششوں کے نتیجے میں جس جنت کا وہ مستحق بنا۔جب وہ زمانہ استحقاق کا ختم ہوگا تو وہ پھر نئی جون میں آ جائے گا اور عمل کرے گا نئے اور پھر وہ ایک نیا دور شروع ہو جائے گا۔پھر اس کے بعد وہ جہنم میں جائے گا یا جنت میں جائے گا یا جو بھی ہوگا۔ان کے دماغ نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ ابدی جنت کے لئے محض انسانی کوشش کافی نہیں۔تو یہ جو کہا گیا کہ عذاب سے بچا۔مغفرت کے معنے ہیں۔جب ہم کہتے ہیں کہ اے خدا! ہم سے مغفرت کا سلوک کر ، مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لے، اصلاح کر دے ہماری ، ایک تو ہم