خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 19 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 19

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۹ خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۷۹ء کے معنی انذار کے ہیں ) انذار کے لئے اس کے اوپر ذمہ داری سوائے ابلاغ رسالت کے نہیں یعنی بحیثیت رسول اس کے اوپر جو تعلیم نازل ہوئی ہے اس کا آگے پہنچا دینا ہے۔اس کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری اس کی نہیں۔وہ رسالت، وہ تعلیم الَّتِي أُرْسِلَ بِهَا إِلَيْكُمْ جوتعلیم بتاتی ہے۔مُبَيِّنَةً لَكُمْ بَيَانًا يُوَضِحُ لَكُمْ سَبِيلَ الْحَقِّ جو تعلیم کھول کے بیان کرتی ہے کہ صداقت کا ، حق کا راستہ کیا ہے۔وَالطَّرِيقَ الَّذِي أُمِرْتُمْ اَنْ تَسْلُكُوہ اور وہ کون سی راہیں ہیں خدا کو پانے کی جن پر تمہیں چلنا چاہیے تو یہ کام ہے رسالت کا۔وہ تعلیم لا یا۔اس نے وہ راہیں بتادیں جو خدا تک پہنچاتی ہیں۔بع قرآں خدانما ہے خدا کا کلام ہے یہ کام محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کر دیا۔قرآن نازل ہوا تھا تم تک قرآن پہنچا دیا۔تمہیں کھول کے بیان کر دیا۔اپنی صداقت کے لئے عظیم نشان دکھائے جو پھیلے ہوئے ہیں قیامت تک۔اس چودھویں صدی میں بھی بیسیوں خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے نشان دکھائے جن کا پہلے علم دیا گیا تھا۔اس نے وضاحت سے بیان کیا صراط مستقیم کو اور اس طریق کو جس پر چلنے کا تمہیں حکم دیا گیا تھا۔وَ اَمَّا الْعِقَابُ عَلَى التَّوْلِيَةِ اور منہ پھیر لینا، ارتداد اختیار کر لینا، کہنا ہم نہیں بات مانتے ، جہاں تک اس کی سزا کا تعلق ہے۔وَالْاِنْتِقَامِ بِالْمَعْصِيَةِ اور گناہ کی سزا دینے کا جہاں تک تعلق ہے فَعَلَى الْمُرْسَلِ إِلَيْهِ دُونَ الرُّسُلِ تو یہ ذمہ داری رسول بھیجنے والے کی ہے رسولوں کی نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی ذمہ داری ہے رُسل کی نہیں ہے۔وَ هُذَا مِنَ اللهِ تَعَالَى وَعِيدٌ لِمَنْ تَوَلَّى عَنْ أَمْرِهِ وَنَهْيِهِ اور جو شخص خدا تعالیٰ کے اوامر سے منہ پھیرتا یا جن باتوں سے اسے روکا گیا ہے ان سے باز نہیں آتا یہ اس کے لئے بڑی سخت وعید ہے۔سورہ مائدہ میں ہے مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلغُ وَ اللهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَ مَا تكتمون (المائدة : ۱٠٠) اس آیت سے پہلی آیت کے آخر میں ہے خدا تعالیٰ شَدِيدُ الْعِقَابِ بھی ہے اور غَفُورٌ رَّحِیم بھی ہے۔خدا تعالیٰ کی یہ صفات بیان ہوئی ہیں۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلا الْبَلغُ وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ۔رسول پر صرف بات کا ط