خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 328
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۲۸ خطبه جمعه ۱۰ راگست ۱۹۷۹ء گے اور استقامت دکھا ئیں گے اور مستقل مزاجی سے کام لیں گے اور صراط مستقیم سے بھٹک نہ جائیں گے اور خدا میں فانی ہو کر خدا سے نئی زندگی پائیں گے۔تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَبِكَةُ یہ ایک وعدہ ہے اس آیت میں۔اللہ تعالیٰ کے فرشتے ایسے لوگوں پر اتریں گے۔دوسرا وعدہ یہ ہے کہ فرشتے ایسے لوگوں کو یہ تسلی دیں گے کہ تمہیں کس چیز کا ڈر۔ڈرو نہیں خدا تم سے پیار کرتا اور ہم تمہاری حفاظت کے لئے مقرر ہیں۔تمہیں کس چیز کا ڈر۔تیسرے اس میں یہ وعدہ ہے کہ فرشتے اتر کر یہ تسلی دیں گے کہ تم یہ نہ سوچنا کہ بشری کمزوریوں کے نتیجہ میں تم غلطیاں کر چکے ہو پہلے۔کہیں ہم خدا کی گرفت میں نہ آجائیں۔تو اگر تم ربنا الله توحید خالص پر قائم ہو کر استقامت دکھاؤ گے اور بھٹکو گے نہیں تو پچھلی غلطیوں کا بھی غم نہ کرو۔خدا تعالیٰ کی طرف سے اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ( الزمر : ۵۴) کہا گیا ہے۔تمہاری سب غلطیوں کو معاف کر دے گا۔تمہیں ہم بشارت دیتے ہیں۔کوئی غم کرنے کی ضرورت نہیں۔و ابشروا اور خوش ہو جاؤ بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ اس جنت کے حصول کی بشارت سن کر ہم سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اور قرآن کریم سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ دو جنتوں کا وعدہ دیا گیا ہے۔ایک اس زندگی کی جنت کا اور ایک اُخروی زندگی کی جنت کا۔اس زندگی کی جنت کا وعدہ جب انسان اپنی اس زندگی میں پورا ہوتا دیکھتا ہے تو اس کو یقین ہو جاتا ہے کہ جو دوسرا وعدہ ہے وہ بھی اپنے وقت پر پورا ہوگا۔سورہ تو بہ میں فرمایا کہ مومن مرد بھی ہوتے ہیں اور مومن عورتیں بھی ہوتی ہیں۔مومن مرد ہوں یا مومن عورتیں ہوں اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدے کئے ہیں اور ایمان کی شرائط اس آیت میں بیان کی ہیں کہ صحیح اور سچے اور کامل مومن بن جاؤ اور تین تقاضے ہیں اس ایمان کے۔جن مومنین اور مومنات کا یہاں ذکر ہے وہ تین تقاضوں کو پورا کرنے والے ہوں شرائط یہ ہیں کہ زبان سے اقرار کریں کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے اور جو اس کا کلام نازل ہوا ہے اور جن چیزوں کے۔