خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 327 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 327

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۲۷ 66 خطبه جمعه ۱۰ /اگست ۱۹۷۹ء گے اور دوسرے یہ کہ جب جنت میں داخل ہوں گے تو جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔سورة لحم السجدة جس کو فصّلت “ بھی کہتے ہیں میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ان الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللہ وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے۔یہ آیت اور ترجمہ میں پڑھ چکا ہوں اس میں جن شرائط کا ذکر ہے وہ یہ ہیں۔یہ عقیدہ رکھنا کہ ربنا اللہ یعنی تو حید خالص کا عقیدہ جس میں کسی قسم کے شرک کی آمیزش نہ ہو۔یہ شرط ہے۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں ایمان لایا۔اگر کوئی شخص اس کہنے کے بعد اپنے دل میں محض ایک مبہم سی شکل ایمان کی رکھتا ہو۔نیز اگر کوئی شخص اس ایمان کے ساتھ ظاہر میں ہمیں نماز پڑھتا بھی نظر آئے ، ہمیں زکوۃ دیتا بھی نظر آئے ، ہمیں روزہ رکھتا بھی نظر آئے لیکن وہ شرک کی بھی کسی قسم میں ملوث ہو تو خدا تعالیٰ کا وعدہ اس کے حق میں پورا نہیں ہوگا۔یہاں یہ شرط بڑی کھول کے بیان کر دی ہے کہ شرط یہ ہے کہ عقیدہ رکھے ربنا اللہ اللہ ہی اللہ ہے، جس کی انسان کو ضرورت ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ سے مل سکتی ہے غیر اللہ سے نہیں۔اس کے فضل اور اس کی رحمت سے انسان اپنی زندگی کے مقصد کو پا سکتا ہے۔ثمَّ اسْتَقَامُوا دوسرے یہ کہ صراط مستقیم پر وہ پختگی کے ساتھ قائم ہو جائے۔مستقل مزاجی کے ساتھ صراط مستقیم پر قائم ہو اور توحید خالص کو ایک دفعہ اختیار کرنے کے بعد کبھی شرک ظاہر یا شرک باطن کا کوئی خیال اس کے دل میں نہ آئے۔اور اس میں یہ بتایا کہ بھٹک نہ جانا۔ثبات قدم ہو۔خدا تعالیٰ سے وفا کا تعلق رکھنا۔خدا تعالیٰ کی پرستش کے ساتھ کسی اور کی پرستش نہ کرنا۔اپنے نفس کو اپنے لئے بت نہ بنانا۔نفسانی خواہشات کے حصول میں اللہ تعالیٰ کو نظر انداز نہ کر دینا بلکہ خدا کی خاطر ہر چیز کو یہاں تک کہ اپنے نفس کو اور اپنی جان کو قربان کر دینا اور ایک فنا کی حالت طاری کر کے ایک نئی زندگی اپنے رب سے پانا۔یہ شرائط بیان کر دیں۔وعدے جو اس آیت میں بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں۔ایک وعدہ یہ ہے کہ تم پر فرشتے اتریں گے۔اس آیت میں یہ وعدہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہ جو لوگ ربنا اللہ کہیں گے اور وفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق عبودیت کو ہمیشہ قائم رکھیں