خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 304
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۰۴ خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۷۹ء۔are your trousers and you are their shirts تو یہ مطلب نہیں ہے ظاہری لباس مراد نہیں۔لباس ڈھانکتا ہے۔لباس سردی گرمی سے حفاظت کرتا ہے۔لباس زینت بنتا ہے۔لباس کے متعلق خود قرآن کریم نے دوسری جگہ بہت سے فوائد بتائے ہیں۔یہاں روحانی فوائد مراد ہیں اور صرف اتنا کہا ہے کہ تم ان کے لئے لباس اور وہ تمہارے لئے لباس۔اکیسویں بات یہ بتائی گئی کہ کھاؤ پیو روزہ کھولنے کے بعد کوئی پابندی نہیں یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔شروع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بعض ایسے مخلص مسلمان تھے (پوری طرح احکام ابھی واضح نہیں تھے ) کہ جب روزوں کا حکم ہوا تو انہوں نے روزے سے روزہ ملانا شروع کر دیا یعنی دو دن کا روزہ اکٹھارکھ لیا اور بہت زیادہ تنگی میں اپنے آپ کو ڈالا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع کیا۔اب یہ حکم ہے کہ روزہ کھولنے کے بعد سحر تک جو سحری بند ہونے کا وقت ہے جس کو قرآن کریم کی اصطلاح میں روشنی کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگ جاتی ہے کہتے ہیں اس وقت تک کھاؤ پیو اپنی ضرورت کے مطابق۔یہ نہیں کہ اسراف کرو۔اپنی ضرورت کے مطابق ہر شخص کھائے اور پٹے۔کسی کی دو چھٹانک کی ضرورت ہے ممکن ہے کسی کی ایک سیر کی ہو جائے لیکن بہر حال کہا ہے کہ اپنی ضرورت کے مطابق کھاؤ اور پیو صبح تک۔اور بائیسویں یہ بتایا کہ اس کے بعد جس وقت سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے اس کے بعد رات تک غروب آفتاب تک روزوں کی تکمیل کرو۔ادھورے روزے نہیں جس طرح چڑی روزہ بچے رکھا کرتے ہیں یعنی دن میں چار پانچ روزے بالغ مسلمانوں کے لئے وہ روزے نہیں ہیں۔تمیسویں یہ ہے کہ اعتکاف کی حالت میں رات کو بھی بیویوں کے پاس نہ جاؤ اور یہ تفصیل بیان کرنے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے بنیادی باتیں بیان کرنی شروع کیں۔اور چوبیسویں یہ بتایا کہ یہ جو میں نے حکم نازل کئے ہیں ان کو ایسا سمجھو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ حدود ہیں۔ان کے قریب بھی مت جاؤ۔بعض لوگ دیر بعد سحری شروع کرتے ہیں