خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 285 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 285

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۸۵ خطبہ جمعہ ۲۰ / جولائی ۱۹۷۹ء کئے۔ایک یہ کہ ماں باپ کے شکر گزار بچے بن کے رہو۔دوسرے یہ کہ ماں باپ سے (حُسنا محسن سلوک کرنے والے بنو اور تیسرے یہ کہ ماں باپ سے احسان کرو۔یہ تین بنیادی اصول ہیں ماں باپ کے حقوق کے قیام کے لئے جو قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ سورۃ بنی اسرائیل میں فرماتا ہے۔یہ آیات شروع یہاں سے ہوتی ہیں۔وَقَضَى رَبُّكَ أَلَا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا (بنی اسراءیل: ۲۴) اور ان دو آیات کا ترجمہ یہ ہے۔تیرے رب نے اس بات کا تاکیدی حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور نیز یہ کہ اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرو۔احسان کا سلوک کرو۔اگر ان میں کسی ایک پر یا ان دونوں پر بڑھاپا آ جائے تو انہیں ان کی کسی بات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اُف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑ کو اور ان سے ہمیشہ نرمی سے بات کرو اور رحمت کے جذبہ کے ساتھ ان کے سامنے عاجزانہ رویہ اختیار کرو اور ان کے لئے دعا کرتے ہوئے یہ کہا کرو۔اے میرے رب ان سے رحمت کا سلوک کر کیونکہ انہوں نے بچپن کی حالت میں میری پرورش کی ( جب میرا کسی عمل کی وجہ سے ان پر کوئی حق نہیں بنتا تھا)۔سورۂ عنکبوت میں ہے۔وَ وَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا (العنکبوت : ۹) اور ہم نے انسان کو اپنے والدین سے حسن سلوک ، اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ دونوں تجھ سے اس بات میں بحث کریں کہ تو کسی کو میرا شریک قرار دے حالانکہ اس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان دونوں کی اس خاص حکم میں فرماں برداری نہ کر کیونکہ تم سب نے میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے اور میں تمہارے عمل کی نیکی بدی سے تم کو واقف کروں گا اور سورہ لقمان میں ہے۔ووصينا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ (لقمن : ۱۵) اور ہم نے یہ کہتے ہوئے کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر یہ ادا کرو انسان کو اپنے والدین کے متعلق احسان کرنے کا تاکیدی حکم دیا۔اور اگر وہ دونوں تجھ سے بحث کریں کہ تو کسی کو میرا شریک مقرر کر جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان دونوں کی یہ بات مت مان۔ہاں د نیوی معاملات میں ان کے ساتھ نیک تعلقات قائم رکھ اور اس شخص کے پیچھے چل جو میری طرف جھکتا ہے اور دینی اور دنیوی معاملات میں اُس کا اُسوہ اس قابل ہے کہ اس کے پیچھے چلا جائے۔