خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 12
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۲ خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۷۹ء اتنی بڑی صداقت آ گئی ، توحید کے اتنے زبردست دلائل انسان کے ہاتھ میں دے دیئے گئے ، وہ راہ بتا دی گئی جس سے انسان خدا تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق پیدا کر کے علی وجہ البصیرت اپنے رب کو پہچان سکتا ہے، اس کے باوجود جو شخص شرک کرتا ہے پھر بھی أَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ان سے اعراض کرو۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَوْ شَاءَ اللهُ مَا اشْرَكُوا یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا انہیں انکار اور شرک کی طاقت نہ دیتا اور وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے تجھے ان پر محافظ نہیں مقرر کیا اور نہ تو ان پر نگران ہے۔b سورہ بنی اسرائیل میں ہے : - رَبُّكُمُ اَعْلَمُ بِكُمْ إِنْ يَشَأْ يَرْحَمَكُمْ أَوْ إِنْ يَشَأْ يُعَذِّبُكُمُ b وَ مَا اَرْسَلْنَكَ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا (بنی اسراءیل : ۵۵) اس آیت سے پہلے یہ مضمون ہے کہ شیطان انسان کا کھلا کھلا دشمن ہے اور وہ کوشش کرتا ہے (جیسا کہ بعض جگہ تفصیل سے بیان ہوا) کہ انسان کو خدا تعالیٰ کی راہوں سے ہٹادے اور گمراہ کر دے۔اس کے بعد فرما یا ربكُم اَعلَمُ بِكُم تمہارا خدا ہی جانتا ہے کہ کس شخص نے دل سے خدا کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور کس شخص نے عاجزانہ طور پر اپنے وجود کو خدا کے سپرد کر دیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کو قبول کیا۔یہ علم انسان کو حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔رتبكُم اَعْلَمُ بِکھ ہمیں سمجھایا گیا ہے کہ یہ علم کہ کوئی شخص واقع میں خدا تعالیٰ سے پیار کرنے والا ہے یا نہیں ، یہ تو جس سے پیار کیا جاتا ہے وہی بتائے گا ، میں اور آپ کیسے بتا سکتے ہیں۔ربكُم اَعلَمُ بِکھ تمہارا رب تمہیں سب سے زیادہ جانتا ہے اگر وہ چاہے گا تو تم پر رحم کرے گا۔جس کے متعلق وہ سمجھے گا کہ رحم کے قابل ہے اس پر وہ رحم کرے گا اور اگر وہ چاہے گا تو تمہیں عذاب دے گا۔اور اے رسول ! ہم نے تجھے ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا جس کے معنے میں تفصیل سے پہلے بیان کر چکا ہوں۔و سورہ زمر میں ہے اِنَّا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ فَمَنِ اهْتَدَى فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ (الزمر : ۴۲) اس سے پہلے ایک لمبا مضمون چلا آ رہا ہے لیکن معا پہلے یہ ہے کہ تم اپنی جگہ کام کرتے رہو میں اپنی جگہ کام کرتار ہوں گا۔اور پھر جب خدا تعالیٰ اپنے ارادہ کو ظاہر کرے گا اور تم پر گرفت اس کی آئے گی اور دوسرے گروہ پر انعام