خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 252
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۵۲ خطبہ جمعہ ۶ / جولائی ۱۹۷۹ء اپنے رزق کی بخشش میں جو مختلف انسانوں کو اس نے دیا، بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔بعض کو زیادہ دیا بعض کو کم دیا ہے اور جو لوگ خدا تعالیٰ کی یہ جو عطا ہے اور جو اس کا رنگ ہے اور جس شکل میں اس نے یہ تقسیم کیا ہے اپنے رزق کو اس کی حکمت کو سمجھتے نہیں۔وہ خدا تعالیٰ کا عطا کردہ جو رزق ہے، اسے کسی صورت میں بھی ان لوگوں کی طرف جو ان کے Dependant ہیں جن پر ان کے داہنے ہاتھ قابض ہیں۔یہاں غلام مراد نہیں بلکہ جو ، جن کی ذمہ داریاں ان پر ہیں کہ ان کے کھانے کا، پینے کا، کپڑوں کا ، رہائش کا ، ان کے علاج معالجہ کا ان کو خیال رکھنا چاہیے وہ ان لوگوں کو خدا کے دیئے ہوئے رزق میں حصہ دار بنانے کے لئے تیار نہیں اور خدا کا منشا یہ ہے کہ حصہ دار بھی وہ اس طرح بنا ئیں کہ جس کے نتیجہ میں وہ برابر کے حصہ دار بن جائیں۔پھر کیا وہ اس حقیقت کے جاننے کے باوجود، یہ حقیقت جو پہلے بیان ہوئی وہ یہ کہ دینے والا اللہ اور حکمت یہ ہے کہ سارے اس میں شریک کئے جائیں اور مختلف جگہوں میں خدا تعالیٰ نے بتایا کہ ہر انسان کے لئے میں نے اس ارض اس جہان کو ، اس کی نعماء کو پیدا کیا ہے کسی خاص گروہ کے لئے نہیں پیدا کیا۔انسان ، انسان میں اس معاملہ میں فرق نہیں کیا جا سکتا۔رزق دنیا میں یعنی رزق سے مراد میری یہ پیسہ یا گندم نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے جو چیز بھی دی جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا وہ رزق کے لفظ کی اصطلاح کے اندر آ جاتا ہے۔ایک تو بالکل واضح اور غیر مشکوک یہ حقیقت ہے کہ بعض لوگوں میں قابلیت زیادہ ہے۔ہر میدان میں استعدادیں مختلف بھی ہیں اور ہر میدان کی استعداد میں فرق بھی ہے مثلاً تجارت کو لے لیں۔مشہور ہے کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جس چیز کو مٹی کو بھی ہاتھ لگا ئیں تو وہ سونا بن جاتی ہے اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ جو سونے کو بھی ہاتھ لگا ئیں تو وہ مٹی بن جاتی ہے یعنی ان میں جو مٹی کو ہاتھ لگا ئیں جن کے متعلق کہا گیا وہ سونا بن جاتا ہے خدا تعالیٰ نے یہ استعداد اور صلاحیت پیدا کی ہے کہ وہ تجارت کے میدان میں آگے بڑھیں اور پیسے جمع کریں۔مدینہ کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ایک جس وقت خدا تعالیٰ نے دنیا جہان کی دولتوں کا رخ مدینہ کی طرف پھیر دیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانثاروں کے قدموں میں ساری دنیا کی