خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 249 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 249

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۴۹ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۹ء رہے گی لیکن جو ہماری بشاشت ہماری خوشی ہے وہ تو ان مٹ ہے، وہ تو ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ہم خوش اس لئے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے کہا خوش ہوا اور خوشی سے اچھلو کہ غلبہ اسلام کا موسم آ گیا۔موسم بہار آ گیا اسلام کے لئے۔جب اسلام کے نام پر ہماری خوشیاں ہیں تو ہمیں یہ دنیوی چیزیں اور دکھ جو ہیں یہ ہماری خوشیاں کیسے چھین سکتے ہیں۔اور مسکراہٹیں کیسے۔۔۔۔میں نے کہا جا کے مسکراؤ۔بھیج دیا میں نے۔ویسے میں جانتا ہوں کہ وہ مسکراتے ضرور ہوں گے لیکن لوگ یہی سمجھتے ہوں گے کہ یہ رور ہے ہیں یعنی چہرہ پر ورم آئی ہوئی تھی۔اس نوجوان کے ذہن پر میری بات کا اتنا اثر کہ گھڑی دیکھ کے ٹھیک ۴۸ گھنٹے کے بعد میرے پاس آیا دوبارہ اور کہنے لگا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ کو دکھاؤں کہ میری ورم چلی گئی۔گردن بھی اب متورم نہیں اور چہرہ بھی نہیں اور ٹھیک آپ نے کہا تھا کہ ہم تو اس لئے خوش ہیں کہ اسلام کے غالب آنے کے دن آئے۔خدا تعالیٰ اپنی نعمتوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں جو بنی نوع انسان کو اپنے فضلوں اور رحمتوں کے احاطہ میں لینے کا سامان کر رہا ہے۔اس واسطے ہم خوش ہیں۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔مسکراتے رہو اور خوش رہو اپنے خدا سے۔تو ہماری تو یہ خوشیوں کے دن ہیں۔ہم خوش ہیں اور یہ جو دنیوی روکیں ہیں یہ تو انگریزی کا محاورہ ہے! Pin Pricks یعنی ایک سوئی چھو دی کسی کو ، Pin چھود یا کسی کو۔کاغذ بھی لیٹتے ہیں کئی دفعہ انگلی کو میرے بھی چبھ جایا کرتا ہے تو یہ pin Pricks ہمیں اپنے راستہ سے ہٹا دیں گے؟ یہ لوگ اپنا کام کرتے رہیں۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم خدا سے یہ کہیں کہ اے خدا! جو کچھ کر رہے ہیں ان سے غصہ نہ ہونا یہ پہچانتے نہیں تیرے منصو بہ کو۔اس واسطے تو ایسا سامان پیدا کر دے کہ جو تیرا منصوبہ ہے اسے پہچاننے لگ جائیں۔ہمیں اپنے لئے کچھ نہیں چاہیے۔مجھے تو اپنے لئے کچھ نہیں چاہیے اور جتنی مرضی قسمیں دلوا دو اس پر اور مجھے یقین ہے کہ آپ کو اپنے لئے بھی کچھ نہیں چاہیے۔ہمیں اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سب کچھ چاہیے اور ہمیں بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے سب کچھ چاہیے۔تو دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کے سامان پیدا کر دے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں۔خدا نے وعدے کئے ہیں۔شرطیں لگائی ہیں۔آپ شرطیں پوری کرتے چلے جائیں ایمان کے عملِ صالحہ