خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 222 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 222

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۲۲ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء بچے کے منہ میں ٹھونسے تو وہ رزق تو ٹھیک ہے لیکن وہ کریم نہیں ہے اس کے لئے ، طیب نہیں ہے اس بچے کے لئے۔تو خدا تعالیٰ نے کہا کہ جیسے جیسے تمہارے حالات بدلتے جائیں گے تمہارے حالات کے مطابق میں تمہاری ضروریات پوری کرنے کا سامان پیدا کرتا چلا جاؤں گا )۔رزق کے معنی صرف کھانا ہی نہیں ہے بلکہ ضروریات پورا کرنے کا سامان تمہیں دیتا چلا جاؤں گا لیکن ساتھ انذار بھی ہے اتنا ز بر دست، مغفرت بھی ہے۔حالات کے مطابق تمہیں ہر چیز میتر بھی آجائے گی۔انذار ہے یہ کہ اگر تم ہجرت نہ کرو ہمارے حکم کے مطابق اور جہاد میں حصہ نہ لو اور مومن بھائیوں کو پناہ نہ دو اور بھائی بھائی کی مدد نہ کرے اور اس طرح تم سچے مومن نہ بنو یعنی قرآن کریم نے بھی مومن ، مومن میں فرق کر کے ایک جگہ خالی مومن کہا ہے۔ایک جگہ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا کا لفظ ہے اسی آیت میں جو میں پڑھ رہا ہوں۔یہ فرق خود قرآن کریم نے کیا ہے۔سچے مومن نہ بنو تو یہ بشارت تمہارے حق میں پوری نہیں ہوگی۔فرمایا:۔وَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَ الَّذِينَ اوَوُا وَ نَصَرُوا أُولَبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (الانفال: ۷۵) ہجرت کے معنی محض اپنے گاؤں کو یا شہر کو یا اپنی جائیداد کو چھوڑ کے دوسری جگہ منتقل ہونے کے نہیں ہجرت کے معنی ہیں ہر اس چیز کو چھوڑ دینے کے جسے چھوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہو۔اس معنی کی طرف زیادہ تر توجہ ہمارے جو صوفیاء مفسر ہیں ان کی گئی ہے۔وہ بہت سارے تو دوسری طرف آتے ہی نہیں۔وہ اپنے ہی معنی کر جاتے ہیں لیکن وہ بھی معنی ہیں جو خدا کی۔جس نے خدا کی خاطر مکہ جیسے شہر کو چھوڑا، اپنی جائیداد میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیں۔ہمیشہ کے لئے میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ جب فتح مکہ کے بعد بھی ان جائیدادوں کو واپس لینے کا کوئی Claim نہیں کیا انہوں نے۔اسی طرح واپس آگئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ، بڑا ز بر دست واقعہ ہے وہ بھی۔تفصیل بتائیں گے تمہیں یہاں کہیں۔۔۔۔۔اور وہ بھی ہجرت ہے لیکن ہر وہ چیز جس سے خدا منع کرتا ہے اس کو چھوڑ دینا وہ بھی ہجرت ہے۔اس کو چھوڑ دو۔اس آیت میں بنیادی طور پر دراصل