خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 220 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 220

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۲۰ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء کی کمک بھیج رہے ہیں۔اس خدا کے بندہ نے آرام سے یہ جواب دیا کہ جس فوج میں اس جیسا آدمی ہو وہ شکست نہیں کھایا کرتی۔اور پھر خیر وہ لمبا ایک واقعہ ہے اس نے بھی جا کے کارنامے جو دکھائے۔پھر یہاں جو ایک ہی جنگ کا میں ذکر کر دیتا ہوں۔یرموک کی جنگ میں تین لاکھ فوج قیصر کی عیسائیوں کی اور اس کے مقابلے میں یہ کئی فوجوں کے مختلف جگہوں کے یونٹ اکٹھے کر دیئے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آ گیا ہے خلافت کا۔تو چالیس ہزار اندازہ ہے یعنی ہر ۷۵ ہزار کے مقابلے میں دس ہزار۔یہ وہی قریباً نسبت رہ گئی اور پانچ دن عملاً جنگ ہوئی۔ایک دن ان کے کہنے پر وقفہ ہو گیا تھا اور اس طرح بُری طرح شکست کھائی انہوں نے کہ کوئی حد نہیں۔اس میں ایک واقعہ اور ہوا جو میں ذکر کر دیتا ہوں کیونکہ وہ اصل مضمون میرا جو ہے اسی کے او پر میں بیان کر رہا ہوں۔یہ اس کی مثالیں دے رہا ہوں۔پانچویں دن جس دن آخری معرکہ ہوا اور انہوں نے شکست کھائی اور کہتے ہیں کہنے والے واللہ اعلم کہاں تک صحیح ہے کہ ستر ہزار لاشیں میدان میں چھوڑ کے وہ تین لاکھ کی فوج بھا گئی تھی چالیس ہزار کے مقابلے میں اور پہلے جو چار دن تھے ان میں پتا نہیں کتنے زخمی ہوئے۔کیا ہوا اس کا پتا نہیں۔پانچویں دن خالد بن ولید نے اپنے دوستوں کو جو سردارانِ مکہ کے بیٹے تھے جن میں عکرمہ تھا ابوجہل کا بیٹا ، ان کو بلا یا اور کہا کہ دیکھو تم نے بڑا لمبا عرصہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دشمنی کے مظاہرے کئے اور جنگوں میں شامل ہوئے ، اسلام کو مٹانے کی کوشش کی۔تمہارے چہروں پر ایسے داغ ہیں کہ تمہارے خون کے علاوہ کوئی چیز ان کو نہیں مٹاسکتی اور آج موقع ہے اپنے چہروں کے دھبے دھوڈالو۔ایک سو چالیس دوست اکٹھے کئے انہوں نے۔ایک سو چالیس سے حملہ کر وا دیا تین لاکھ کی فوج پر۔کوئی کہے گا پاگل پن تھا۔کوئی کہے گا خدا تعالیٰ کے پیار کا سمندر موجزن تھا۔انہوں نے بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں کی۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے ایسے دھبے ہیں جو صرف ہمارا خون دھوسکتا ہے اور آج ہم دھوڈالیں گے۔ایک آدمی نہیں بچا ان میں سے۔بیچ ہی نہیں سکتا تھا۔۱۴۰ آدمی تین لاکھ پر حملہ آور ہو جائے۔بچنے کا سامان ہی نہیں۔کہتے ہیں ایک زخمی زندہ بعد میں ملا ان کو جو چند گھنٹے کے بعد وہ بھی فوت ہو گیا لیکن باقیوں کی تو لاشیں ہی وہاں سے اٹھائی انہوں نے۔ان میں عکرمہ بھی تھے۔