خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 216
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۱۶ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء ہے۔جن کے نتیجہ میں وہ ان راہوں پر چلنے سے محفوظ رہ سکتا ہے جو خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی اور شیطان کی گود تک پہنچانے والی ہیں۔اس سے ہمیں یہ بھی پتا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ تمام صلاحیتیں اور استعدادیں عطا کی ہیں جن کی نشوونما کے بعد اور جن کے مطابق اعمالِ صالحہ بجا لا کر انسان خدا تعالیٰ کی خوشنودی کو حاصل کر سکتا ہے ، اس کی رضا کو پاسکتا ہے، اس کی جنتوں کا وارث بن سکتا ہے، اس کی بے شمار نعماء سے حصہ لے سکتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافر کے لئے نذیر بھی ہیں اور بشیر بھی ہیں۔کافر کے لئے نذیر اس معنی میں کہ آپ اسے کہتے ہیں کہ دیکھو! جس غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور مقصودِ حیات کے حصول کے لئے جو قو تیں اور استعداد میں اس نے تمہیں عطا کیں اور تمہاری رہبری کے لئے جو عظیم ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ نازل ہو چکی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں میں تمہارے لئے کامل شریعت لے کے آیا ہوں۔تم اگر میری بات کو سنو گے نہیں ، اگر تم اپنی طاقتوں کو ضائع کرو گے، اگر تم خدا کی طرف توجہ نہیں کرو گے اور شیطان کی طرف منہ کر کے اپنی زندگی کے دن گزارو گے تو اللہ تعالیٰ کے غضب کی آگ تمہارے حصہ میں آئے گی۔یہ انذار کرتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کو اور بشارت دیتے ہیں کہ میری آواز پر لبیک کہو میں تمہاری عزت کو قائم کرنے کے لئے ، میں تمہاری دنیوی اور روحانی فلاح و بہبود کے لئے آیا ہوں۔ایسی تعلیم لے کے آیا ہوں جو زندگی میں بھی تمہاری بھلائی کے سامان پیدا کرتی ہے اور اُخروی جنتوں کے بھی سامان پیدا کرتی ہے۔جو حقیقی زندگی خدا چاہتا ہے تم گزارو، اس زندگی کے سامان پیدا کرنے کے لئے میں آیا ہوں۔اسی واسطے قرآن کریم نے یہ کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہو کیونکہ وہ تمہیں بلاتے ہیں اس لئے لِيُحْيِيَكُمْ کہ وہ تمہیں زندہ کریں۔إذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال : ۲۵) کہ تمہیں اس غرض سے بلاتے ہیں کہ تمہیں زندہ کریں۔یہ کفار کو کہا گیا۔اب یہ انذار تو نہیں یہ تو بشارت ہے بڑی زبر دست۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح نذیر ہیں کافر کے لئے اس طرح بشیر بھی ہیں کافر کے لئے اور یہ خیال بھی غلط ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے لئے محض بشیر ہیں جو