خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 206
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۰۶ خطبہ جمعہ یکم جون ۱۹۷۹ء سبق یہی ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔یہ فساد کی جڑیں کاٹتا ہے۔دنیا میں کوئی فساد اسلام پر عمل کر کے پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔میں کہا کرتا ہوں کہ اسلام کی ساری تعلیم یہ کہتی ہے انسان کو کہ اے انسان میں تجھے آپس میں لڑنے نہیں دوں گا۔پیار سے زندگی گزارو۔ہر باہمی ،لڑائی وہیں ہوتی ہے نا جہاں باہمی تعلقات ہوں۔میاں بیوی کی لڑائی ہو جاتی ہے، بیٹوں کی باپ سے ہو جاتی ہے، باپ بیٹوں پہ غصہ کرتے ہیں، رشتہ داریاں ہیں ان کی آپس میں جنگ و فساد شروع ہو جاتا ہے، ہمسایوں کے ساتھ جنگ شروع ہو جاتی ہے۔اسلام نے تو ، اس وقت میں تفصیل میں نہیں جاتا ایک کوئی اگلے خطبوں میں انشاء اللہ بیان کروں گا ایک ایک مضمون لے کے۔ویسے مثالیں اشارے اب کر دیتا ہوں۔انگلستان میں لاکھوں کی تعداد میں میونسپلٹیز کے پاس یہ شکایت جاتی ہے کہ میرے ہمسائے کے بچے اپنے صحن میں کھیل رہے ہوتے ہیں اور ان کی آوازوں سے مجھے تکلیف ہوتی ہے ان کو منع کریں کہ شور نہ مچائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ہمسائے کے حقوق پر اور ان کے خیال رکھنے پر اتنا زور دیا اتنا زور دیا اتنا زور دیا کہ مجھے خیال پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی وحی میں ہمسائے کو وراثت میں نہ شامل کر دیا جائے تو یہ فرق ہے دو ذہنیتوں کا کہ ایک ذہنیت کو ہمسائے کے بچے کی آواز بھی تکلیف دیتی ہے۔دوسرے کا ذہن اس بات کے لئے بھی تیار ہو جاتا ہے کہ اگر ورثے میں شامل کیا گیا تو ہم اس ہمسائے کو ورثہ بھی دے دیں گے۔تو دشمن کے ساتھ بھی ایک تعلق ہے۔دشمن دشمن سے تعلق اپنا پیدا کرتا ہے۔اسلام کہتا ہے کہ تو مجھے اپنا، تو خود کو میرا دشمن سمجھتا ہو گا۔پر میں تو تجھے اپنا، میں تو خود کو تیرا دشمن نہیں سمجھتا۔میں تو تیرا خیر خواہ ہوں۔میں تو تیرے حقوق کی ادائیگی کا ذمہ وار ہوں۔چند دن ہوئے ایک اخبار میں ہمارے خبر چھپی تھی ایران کے جو ہیں مذہبی لیڈر خمینی صاحب مجھے بڑا پسند آیا وہ بیان ان کا۔انہوں نے یہ کہا ہے کہ اسلامی تعلیم میں جو ایران میں بسنے والے ہیں سارے کے سارے خواہ وہ یہودی کیوں نہ ہوں لیکن صیہونیت سے ان کا تعلق نہ ہو جو برسر پیکار ہیں مسلمانوں سے، مسلمانوں سے لڑنے والے نہ ہوں ان کو ویسے ہی حقوق ملیں گے جیسے ایران کے مسلمانوں کو ملیں گے کیونکہ وہ