خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 6
خطبات ناصر جلد هشتم ۶ خطبہ جمعہ ۱۲ / جنوری ۱۹۷۹ء اس وقت میں بہت سی آیات آپ دوستوں کے سامنے رکھوں گا جن سے میرا یہ مضمون واضح ہو کر آپ کے سامنے آ جائے گا۔یعنی یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اس لئے تھی کہ انسان کی مذہبی آزادی کی حفاظت کی جائے اور آزادی ضمیر کی ضمانت دی جائے تا کہ انسان آزادانہ طور پر خدا تعالیٰ کے احکام بجا لا کر اپنی مرضی سے ، اپنی خواہش کے مطابق خدا تعالیٰ کے عشق اور محبت سے مجبور ہو کر خدا کی راہ میں ایثار اور قربانی پیش کرے اور خدا تعالیٰ کے سامنے اپنی گردن کو اسلمتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقرة : ۱۳۲) کہتا ہوا اس طرح رکھ دے جس طرح مجبور ہو کر ایک بکرا قصائی کے سامنے اپنی گردن رکھ دیتا اور کٹوا دیتا ہے لیکن وہاں مجبوری ہے اور یہاں کامل آزادی۔سورہ انعام میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔وَ كَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُلْ لَسْتُ عَلَيْكُم بوكيل (الانعام : ۶۷) اور تیری قوم نے اس پیغام کو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان تک پہنچا تھا جھوٹا قرار دیا حالانکہ وہ سچا ہے۔مگر تو ان سے کہہ دے کہ مانا نہ ماننا تمہارا کام ہے میں تمہارا (وکیل) ذمہ دار نہیں۔وكيل کے معنی ذمہ دار کے نگران کے محافظ کے، حفیظ کے، جبراً معاصی سے روکنے والے کے ہیں اور تفسیر کی کتب کے کچھ حوالے بھی میں نے اس بات کو واضح کرنے کے لئے اکٹھے کئے اور اس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ آجاتی ہے کہ پہلے بزرگوں نے بھی اس حقیقت پیدائش انسان کو واضح طور پر سمجھا اور اسے بیان کیا تھا۔ایک تفسیر کی کتاب ہے ”روح البیان “۔اس میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے یہ لکھا ہے۔لَسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ: بِحَفِيظ، وَكُلَ إِلَى أَمْرُكُمْ - لَا مُنَعَكُمْ مِنَ التَّكْذِيبِ وَأَجْبِرَكُمْ عَلَى التَّصَدِيقِ إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرُ وَقَدْ خَرَجْتُ مِنَ الْعُهْدَةِ حَيْثُ أَخْبَرْتُكُمْ بِمَا سَتَرَوْنَهُ۔کہ وکیل کے معنے ہیں حفیظ کے اور یہاں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ میں تمہارا محافظ نہیں اس معنے میں کہ میرے سپر د تمہارا یہ کام کیا گیا کہ میں تمہیں روکوں تکذیب سے۔اس آیت