خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 189
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۸۹ خطبہ جمعہ ۲۵ رمئی ۱۹۷۹ء نہیں کر سکتے۔بالکل مقابلہ نہیں کر سکتے۔یہ تو درست ہے اپنی جگہ لیکن یہ بھی درست ہے کہ باوجود اس کے ہم مقابلہ نہیں کر سکتے۔خدا تعالیٰ اس مقصد میں ہمیں کامیاب کرے گا جس مقصد کے لئے جماعت احمدیہ کو کھڑا کیا گیا ہے۔فرینکفرٹ میں میں نے پریس کانفرنس والوں کو یہ کہا کہ آئندہ سو، ایک سو دس سال میں ساری دنیا میں اسلام غالب آجائے گا۔حیران ہو کر دیکھا انہوں نے مجھے کہ یہ شخص کیا کہتا ہے؟ ویسے میرے سامنے بڑے ادب سے، احترام سے بیٹھے ہیں یہ سارے۔سنی بات، کوئی اثر نہیں لیا۔پھر میں نے ان کو کہا دیکھو میں بغیر دلیل کے نہیں بات کر رہا۔میرے پاس ایسی دلیل ہے جس کو تم سمجھ جاؤ گے اور میرے پاس یہ دلیل ہے کہ نوے سال پہلے آج سے قریباً۔مدعی جو تھا اس بات کا کہ اسلام غالب آئے گا اس زمانہ میں وہ اکیلا تھا۔اس کے گھر والے اسے پہچانتے نہیں تھے اور بعض دفعہ اس کی سگی پھوپھیاں اور خالائیں وغیرہ اسے کھانا دینا بھول جاتی تھیں کیونکہ وہ مسجد میں بیٹھا قرآن کریم کی تلاوت کر رہا ہوتا تھا۔یعنی ان کی نگاہ میں فرد ہی نہیں تھا وہ۔اپنے گھر کا فرد ہی نہیں یا در بہتا تھا ان کو۔یہ حالت تھی۔کوئی نہیں پہچانتا تھا اور خدا تعالیٰ کی آواز جو اس کے کان میں آئی یہ تھی کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا اور اسلام کو تیرے ذریعہ سے غالب کروں گا اور جو اسلام سے باہر رہ جائیں گے ان کی حیثیت چوڑھے چماروں کی طرح ہوگی۔یعنی بہت بھاری اکثریت انسان کی اسلام کے اندر داخل ہو جائے گی۔میں نے کہا وہ اکیلا شخص پچھلے نوے سال میں دس ملین ، یعنی ایک کروڑ بن گیا، تو اگر تم یہ سمجھو کہ اس ایک کروڑ کا ہر ایک اگلے ایک سو دس سال میں ایک کروڑ بن جائے تو کیا تعداد بنتی ہے تو ایک ثقہ سا صحافی تھا ادھیڑ عمر کا بڑا اچھا سمجھدار۔میں نے اسے کہا ذرا ضرب لگا کر تو دیکھو۔وہ سمجھا میں ویسے ہی اپنی باتیں کرتے ہوئے پر یس کا نفرنس سے مخاطب ہوں اور میں بات کہہ گیا ہوں تو اس نے سنا اور ضرب نہ دی کروڑ کی کروڑ کے ساتھ۔میں نے کہا میرا دل کرتا ہے، میری یہ خواہش ہے کہ آپ ایک کروڑ کو ایک کروڑ سے ضرب دیں اور میری خاطر آپ یہ تکلیف برداشت کریں۔اس طرح جب میں نے اس کو کہا تو اس نے پھر ضرب دی۔جب اس نے ضرب لگائی تو اس نے سمجھا ضرب ٹھیک نہیں