خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 185
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۸۵ خطبہ جمعہ ۲۵ رمئی ۱۹۷۹ء ہم دنیا کا مقابلہ مادی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ صرف دعاؤں سے کر سکتے ہیں خطبه جمعه فرموده ۲۵ رمئی ۱۹۷۹ء بر مکان صاحبزادہ مرزا امنیر احمد صاحب۔جہلا تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جماعت کے احباب کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ہیں کیا چیز ؟ کس جماعت کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور ان کے فرائض کیا ہیں ان سے توقعات اللہ تعالیٰ کیا رکھتا ہے اور ان سے وعدے کیا کئے گئے ہیں۔اس وقت اسلام دشمن طاقتیں دنیوی لحاظ سے بڑی مضبوط ہیں۔ان کو ہم دوحصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ایک وہ جود ہر یہ ، ایک وہ جو کسی مذہب کی طرف منسوب ہونے والے ہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ کسی مذہب پر ایمان رکھتے ہیں جو د ہر یہ ہیں وہ بھی آگے کئی قسم کے ہیں۔ایک وہ دہریہ ہے جو خدا تعالیٰ کے وجود ہی کو تسلیم نہیں کر رہا اور بڑی طاقت میں ہے وہ۔مثلاً روسی اشتراکیت نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ زمین سے خدا کے نام اور آسمانوں سے خدا کے وجود کو مٹادے گی۔بہت بڑا دعوی ہے جو انہوں نے کیا۔آسمانوں تک ان کی رسائی نہیں لیکن آسمانوں سے خدا کے وجو د کومٹانے کا وہ دعوی کرتے ہیں۔ایک وہ دہر یہ ہیں جو کہتے ہیں ہم خدا کو مانتے ہیں۔مگر وہ نہ اس کی ذات کا صحیح علم رکھتے