خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 147
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۴۷ خطبه جمعه ۱۳ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء اور یہ اس لئے کہا کہ خدا تعالیٰ علیمًا خدا تعالیٰ کے علم سے کوئی باہر نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت کو پیدا کیا اور اس کی ساری قوتوں اور استعدادوں کا صحیح اور کامل علم رکھنے والا ہے۔انسانی استعدادوں اور قوتوں اور صلاحیتوں کی کامل نشو ونما کے لئے اور جس کے نتیجہ میں روحانی نشو ونما اپنے کمال کو پہنچتی اپنے اپنے دائرہ استعداد کے اندر اور خدا تعالیٰ کے زیادہ سے زیادہ پیار کو حاصل کرنے والی بن جاتی ہے۔اس عالم نے ، اس عظیم خدا نے سارا اس علم کے ماتحت ایک طرف اس عالمین کو پیدا کیا اور دوسری طرف انسان کو اور اس کی فطرتوں کو اور اس کی صلاحیتوں کو اور اس کے قومی کو پیدا کیا اور ہر چیز میں اس نے ایک حکمت رکھی اور ہر چیز کی حکمت اس نے قرآن میں بیان کی اور ہمیں سمجھایا کہ تمہارے اوپر کوئی بوجھ نہیں ڈال رہے تمہارے فائدے کے لئے ہر حکم ہے، تمہیں بلند کرنے کے لئے ہر حکم ہے۔ایک جگہ کہا کہ ہم نے تو اس کو آسمانوں کی بلندیوں کی طرف لے جانا چاہا تھا لیکن وہ زمین کی طرف مائل ہو گیا اور خدا سے دور ہو گیا۔ہر فعل خدا کا حکیمانہ ہے حکمت رکھتا ہے۔ہر خدا تعالیٰ کا حکم جو ہے وہ ایک دلیل ہمارے سامنے رکھتا ہے ہمیں حکمت بتاتا ہے کہ ایسا کیوں ہے اور کوچ مالج کے حسین بنا کر، پاک اور مطہر وجود بنا کر اس قابل بنادیتا ہے کہ وہ جو سر چشمہ ہے پاکیزگی اور طہارت کا ہمارا رب، اس کے ساتھ اس کا تعلق قائم ہو سکے۔وہ جو پاکیزگی اور طہارت کا سرچشمہ ہے وہ نا پاک سے تو تعلق نہیں قائم کر سکتا، عقلاً نہیں کرسکتا۔میں اور آپ بد بودار جگہ سے گزرتے ہیں اور اس سے گھن آتی ہے اور اس تعفن کو ہم پسند نہیں کرتے ، ہماری طبیعت متلا جاتی ہے بعض دفعہ۔ہم عاجز بندوں کا یہ حال ہے تو وہ خدا جو محض پاکیزگی اور طہارت ہے اور ہر قسم کی پاکیزگی اور طہارت کا چشمہ جو ہے وہ اسی سے نکلتا اور ہم تک پہنچتا ہے وہ نا پاک کو کیسے پیار کرے گا۔تو ہر حکم جو ہے وہ ہمیں پاک بنانے والا مطہر بنانے والا ہمارے گند کو اور غلاظتوں کو دھونے والا ، ہم پر نور چڑھانے والا اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ۳۶) اس نور کو وہ ، ہمارا وہ نور جو خدا تعالیٰ سے ہمیں حاصل ہوتا ہے اس نور کو خدا پسند کرتا ہے۔خدا اندھیروں کو پسند نہیں کرتا اندھیروں سے وہ نفرت کرے گا کیونکہ اندھیرا ہے خدا سے دوری کا نام جس طرح مادی ظلمت ہے نور سے دوری کا نام۔دن کے وقت آپ کھڑکیاں