خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 127 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 127

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۲۷ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۹ء 66 لکھتے ہیں کہ ابن جریر نے بہت سی روایات جمع کی ہیں جن میں ہے کہ جاہلیت میں عورتیں نذر مانا کرتی تھیں“۔( جاہلیت کے زمانہ میں یہودی مذہب اور عیسائی وہاں بستے تھے۔مدینے میں بھی تھے تو یہ مدینے کی بات ہے ) ” جاہلیت میں عورتیں نذر مانا کرتی تھیں کہ ہم اپنے بچوں کو یہودی بنادیں گے تاکہ وہ زندہ رہیں۔( جن عورتوں کے بچے مرجاتے تھے وہ حب اٹھرا کھانے کی بجائے نذر مانتی تھیں کہ یہودی بنا دیں گے تاکہ وہ زندہ رہیں )۔پھر مسلمانوں کو اسلام نصیب ہوا تو انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے ان بچوں کو جو اہلِ کتاب کے دین پر ہیں مجبور کریں کہ وہ اسلام لے آئیں۔( جو بچے یہودیوں نے لے لئے تھے ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ابن جریر یہ کہتے ہیں بہت سی روایات جمع کی ہیں اور یہ ان کا آپس میں پھر جھگڑا ہو گیا نا۔جواصل ماں باپ تھے وہ کہتے تھے کہ پہلے اسلام تھا ہی نہیں۔ہم نے یہودی مذہب کو اپنے سے بہتر سمجھا اور نذرمانی۔اب یہودی مذہب سے زیادہ اچھا ایک کامل اور مکمل مذہب ہمیں مل گیا ہے اسلام کی شکل میں اب تمہارے پاس کیوں رہنے دیں اپنی اولاد کو۔یہ اختلاف ان میں پیدا ہو گیا اور اس اختلاف کا فیصلہ کیا۔یعنی اس آیت کے نزول کی وجہ جو ہے وہ یہ بیان کرتی ہیں روایات۔اور سعید بن جبیر کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے اترنے پر فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے لوگوں کو اختیار دیا ہے اگر وہ چاہیں وہ بچے جو یہودی لے چکے تھے یا عیسائی خاندان لے چکے تھے اگر وہ چاہیں تو تمہیں ترجیح دیں اور تم میں داخل ہو جائیں۔اگر وہ چاہیں تو وہ ان کو ترجیح دیں اور ان میں داخل رہیں۔اس کے بعد وہ اپنی تفسیر جو انہوں نے کی وہ کہتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ یہ حکم۔بڑا ان کے دماغ نے یہاں کام کیا ہے۔”میں کہتا ہوں کہ یہ حکم اس دین کا ہے جس کے متعلق اس کے دشمن ، اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو اپنے کو اس دین کا دوست خیال کرتے ہیں۔میں کہتا ہوں۔میں پڑھتا ہوں دوبارہ۔میں کہتا ہوں کہ یہ حکم ہے اس دین کا جس کے متعلق اس کے دشمن اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ طاقت اور تلوار کے ساتھ کھڑا ہوا اور وہ لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ( طاقت کے بل بوتے ) اس حال میں کہ طاقت