خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 82
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۸۲ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۷۷ ء کی ذات کا تعلق ہے وہ اس کو اجر اور ثواب دیتا ہے کیونکہ اس نے وہ کام خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کیا۔فرمایا:۔مَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ (العنكبوت: ( خدا تعالیٰ کے ساتھ جب کاموں کا تعلق ہو تو ہر شخص جو بھی کوشش کرتا ہے وہ اپنے نفس کے لئے کر رہا ہوتا ہے خواہ وہ کسی بیمار کی عیادت کر رہا ہو، خواہ وہ کسی دشمن کے لئے دعا کر رہا ہو، خواہ پاکستان میں رہنے والا ایک احمدی مسلمان افریقہ کے کسی علاقے کی کسی تکلیف کو دور کرنے کے لئے بے چین ہو اور متضرعانہ دعاؤں میں لگا ہوا ہو، خواہ وہ سیلاب کے زمانہ میں ان لوگوں کے لئے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال رہا ہو جن کا بظاہر دنیوی لحاظ سے اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اگر کسی جگہ زلزلے آتے ہیں تو خدا کو خوش کرنے کے لئے اس کے بندوں کی خدمت کرنے کے لئے خواہ وہ دنیا کے کسی علاقے میں ہوں ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے مال کی قربانی دے رہا ہو جیسا کہ حکومتیں حکومتوں کی سطح پر ایک دوسرے کی مدد کرتی رہتی ہیں۔اگر خدا کے لئے یہ کام کیا گیا ہے تو بظا ہر کوئی تعلق نہیں ہے اس کی ذات کا ان کاموں کے ساتھ یعنی اپنی ذات کے لئے اس نے یہ کام نہیں کئے لیکن چونکہ اس نے اپنے پیدا کرنے والے رب کریم کے لئے کام کئے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ اجر دے دیتا ہے۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں اور مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہیں دکھاتے ہیں یعنی ایسی راہیں، ایسے طریق اور ایسے صراط مستقیم پر چلاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی خوشنودی کی طرف جانے والا ہے۔ایسے لوگ محسن ہیں کیونکہ وہ اپنے افعال کو جہاں تک خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کا سوال ہے اپنے کمال تک پہنچانے والے ہیں، وہ اپنی کوشش کو اپنے کمال تک پہنچانے والے ہیں ، وہ اپنی نیتوں کی پاکیزگی کو اپنے کمال تک پہنچانے والے ہیں، وہ اپنی دعاؤں کو اپنے کمال تک پہنچانے والے ہیں۔وہ محسن ہیں اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک ہوتا ہے کہ اللہ اپنی خوشنودی اور اپنی رضا کی راہیں ان پر کھولتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرتے ہیں۔پس جہاں تک انسان کا انسان کے کام آنے کا تعلق ہے انسان بہت سے ایسے کام کرتا ہے