خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 422 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 422

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۲۲ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء کہتا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے تو کبھی نہیں فرمایا تھا کہ اگر کوئی شخص اکٹھی تین طلاقیں دیتا ہے تو میں تین ہی قرار دوں گا آپ کون ہو گئے کہنے والے نہ کسی اور خلیفہ کو یہ کہا جاسکتا ہے۔خلافت کا کام ہے شریعت اسلامیہ کے احترام کو قائم کرنا۔قرآن کریم سے یہ ثابت ہے اور طلاق کے سلسلہ میں قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے احکام کو استہزا کا ذریعہ نہ بناؤ سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۲۷ سے یہ مضمون شروع ہوتا ہے اسے ہر کوئی پڑھ سکتا ہے میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا دیر ہو جائے گی۔پس میرا یہ کام ہے کہ میں تمہیں شریعت سے استہزا نہ کرنے دوں۔تمہاری مرضی ہے کہ جماعت مبائعین میں رہو یا چھوڑ کر چلے جاؤ۔خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں میں کسی کی مردہ کیڑے کی حیثیت بھی نہیں سمجھتا۔خدا تعالیٰ خود میری راہنمائی کرتا ہے میں نے تم سے دین نہیں سیکھنا تم نے مجھ سے دین سیکھنا ہے۔خلافت کے متعلق تو قرآن نے اعلان کر دیا ہے اسی آیت استخلاف میں کہ یہ ہم نے Institute ) منصب ) اس لئے بنایا ہے کہ دین کو محکم کریں اور تمہاری پریشانیاں دور کریں۔جب پریشانی کا وقت آتا ہے تو تم میرے پاس آجاتے ہو اور جب ہزار دو ہزار پاؤنڈ بچانے کا وقت آتا ہے تو تم شریعت اسلامیہ سے استہزا کرنے لگتے ہو ایسا نہیں ہوگا۔باقی یہ ٹھیک ہے کہ آپ یہاں الگ تھلگ تھے چھوٹی سی جماعت تھی اس قسم کے معاملے ربوہ چلے جاتے تھے لیکن یہاں کی جماعت کے نوجوانوں کو عام معاملات اور دینی مسائل کا پتا ہونا چاہیے مثلاً طلاق کے مسئلہ کو لے لیں اس سلسلہ میں اسلام نے جو تعلیم دی ہے اور قرآن کریم نے اس کے متعلق جو ارشاد فرمایا ہے اس کا پتا ہونا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ لوگ تعدد ازدواج پر اعتراض کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا اس میں اعتراض کرنے کی کیا بات ہے۔مجھ سے بھی پوچھا تھا اسی یورپ کے دورے میں کہ اسلام تعدد ازدواج کی اجازت دیتا ہے میں اس اعتراض کو سمجھ گیا تھا میں نے کہا دیکھو! بات سنو !! جس دوسری لڑکی سے ایک شخص شادی کرنا چاہتا ہے جس کو دوسری بیوی بنانا چاہتا ہے اگر اس کو اعتراض نہ ہو تو تمہیں کیا اعتراض ہے۔اس کو تو پتا ہے کہ میں دوسری بیوی بن رہی ہوں اور وہ اعتراض نہیں کرتی تو تم کیوں اعتراض