خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 412
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۱۲ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء کہ اللہ تعالیٰ دعا کرنے والے کو خواب کے ذریعہ اطلاع دیتا ہے اور دوسرا آدمی اس کے لئے دعا کر رہا ہو تو اسے بھی اطلاع دیتا ہے کہ اس کے دوست یا بزرگ یا بھائی یا بیٹے یا خلیفہ وقت کے متعلق دعا قبول ہو گئی ہے اور دعا اجتماعی بھی ہے۔اجتماعی دعا بعض حالات میں اور بعض زمانوں میں بہت ضروری ہو جاتی ہے اور اگر انسان انفرادی دعائیں اجتمائی دعا پر قربان کر دے تو میری یہ ذاتی رائے ہے اور جو تاریخ میں نے پڑھی ہے اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ پھر اپنے لئے نہیں بھی دعا کر رہا ہوتا تب بھی اس کی دعا قبول کر لی جاتی ہے کیونکہ وہ خدا کی مخلوق کے لئے دعائیں کر رہا ہوتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آپ نے عرب میں ایک عظیم روحانی انقلاب بپا کر دیا۔عرب وحشی اور درندہ صفت تھے عمل کرنا تو در کنار اُن کو حسنِ اخلاق کا علم ہی نہیں تھا۔کتوں اور سؤروں کی طرح وحشیانہ زندگی گزار رہے تھے لیکن حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قوم کی زندگی کے اندر ایک انقلاب عظیم بپا ہو گیا۔آپ فرماتے ہیں تمہیں پتا ہے یہ انقلاب کیوں پیدا ہوا یہ ایک فانی فی اللہ کی راتوں کی عاجزانہ دعاؤں کا نتیجہ تھا۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب سے اتنی دعائیں کیں، پہلے عرب کے لئے اور پھر سب بنی نوع انسان کے لئے ( کیونکہ اسلام کا پیغام ساری دنیا میں پہنچنا تھا) کہ ایک انقلاب عظیم بپا ہو گیا ایسا انقلاب جسے آج کی دنیا بھی سمجھنے سے قاصر ہے حالانکہ سائنس بہت ترقی کر چکی ہے۔اسی جگہ میں نے پہلے بھی ایک موقع پر بتایا تھا کہ ایک امریکی رسالہ میں مضمون چھپا کہ بچپن سے یا جوانی کی عمر میں جو عادت پڑ جائے تو بڑے ہو کر وہ عادت چھوٹا نہیں کرتی۔ہماری ایک احمدی بہن نے اس رسالہ کو خط لکھا کہ تمہاری یہ بات غلط ہے کہ عادت چھوٹا نہیں کرتی۔عادتیں لچھٹ جاتی ہیں اُس نے مثال دی کہ مسلمانوں پر شراب بڑی دیر کے بعد حرام ہوئی تیرہ سالہ مکی زندگی میں شراب حرام نہیں تھی مدنی زندگی میں بھی ایک عرصہ تک شراب حرام نہیں تھی۔ایک رات دوستوں کی مجلس لگی ہوئی تھی وہ شراب پی رہے تھے اور شراب میں مست تھے کہ اسی حال میں اُن