خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 359
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۵۹ خطبه جمعه ۳۱ / مارچ ۱۹۷۸ء ایک درخت کے اوپر جو پتے ہیں ان کا گننا بھی مشکل ہے اور ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ہر درخت کے پتے خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر نہ اپنی ٹہنی پر قائم رہ سکتے ہیں نہ اس ٹہنی کو چھوڑ کر گرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہر درخت کے ہر پتے پر نازل ہو رہا ہے اور یہ اس لئے نازل ہو رہا ہے کہ وہ درخت نشو و نما پا کر انسان کی خدمت کر سکے۔پس خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے تو غیر محدود ہیں۔خدا تعالیٰ کی ایک ساعت کے جلوے بھی ہماری عقل کے احاطہ سے باہر ہیں۔خدا تعالیٰ کی صفات کے غیر محد و دجلوے کائنات کی ہر چیز پر اس لئے ظاہر ہورہے ہیں کہ وہ انسان کی خدمت کے لئے تیار ہو سکے۔ہر چیز کے اندر یہ اہلیت پیدا ہو سکے کہ وہ انسان کی خدمت کرے اور اگر وہ جلوہ انسان پر ظاہر ہو تو یہ انسان کے فائدہ کے لئے ہوتا ہے مثلاً انسانی نوع کی بجائے ایک فرد کو لے لیں میں بھی خدا کا ایک عاجز بندہ ہوں۔میں اپنے آپ کو لے لیتا ہوں میری زندگی دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔جس طرح آپ میں سے ہر ایک کی زندگی دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے اسی طرح میری زندگی بھی دوحصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ایک میرا جسم ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کے ماتحت ہے اور ایک میری روحانی قوتیں اور استعدادیں ہیں اور وہ يَهْدِى إِلَيْهِ مَنْ آنَابَ کی رُو سے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی محتاج ہیں جب تک ہم اس کی طرف نہ جھکیں ہم ہدایت نہیں پاسکتے۔میں چونکہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں اس لئے مادی حصے یعنی مادی جسم کو لیتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان بھی ایک کائنات ہے اور اس کا ئنات کے ایک چھوٹے سے حصے کو لے کر میں اپنی بات آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔مثلاً میری انگلی ہے میرا دماغ اس کو حکم دیتا ہے یہ حکم میرے دماغ سے میری انگلی تک اعصاب(Nerves) کے ذریعہ پہنچتا ہے اور یہ کوئی لمبی رسیاں نہیں ہوتیں بلکہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں جن کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے۔جس وقت دماغ حکم دیتا ہے اس وقت خدا تعالیٰ کی قدرت کا جلوہ اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ ہر فاصلے کے درمیان کیمیاوی اجزا کا ایک پل بن جاتا ہے۔جب دو فا صلے آپس میں پل کے ذریعہ مل جاتے ہیں تو حکم آگے چلا جاتا ہے، پھر آگے چلا جاتا ہے، پھر آگے چلا جاتا ہے۔گویا ایک لمحہ کے ہزارویں حصے میں دماغ کا حکم بڑی