خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 23 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 23

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۳ خطبہ جمعہ ۲۸ جنوری ۱۹۷۷ء تحریک وقف عارضی کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ جو لوگ وقف عارضی پر جاتے ہیں ان کو اپنے نفس کا بعض پہلوؤں سے محاسبہ کرنا پڑتا ہے۔جانے سے قبل انہیں اپنی بعض کمزوریوں کی طرف توجہ ہو جاتی ہے اور دعاؤں کی طرف ان کی توجہ مائل ہو جاتی ہے یعنی وقف عارضی پر جانے کی جو تیاری ہے اس کا بڑا حصہ یہ ہے کہ وہ دعاؤں کی طرف متوجہ ہوتے اور اپنی دینی معلومات میں اضافہ کرتے یا انہیں تازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جانے سے پہلے کتب کا زیادہ مطالعہ کرتے ہیں اور کچھ کتب اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔وہ سوچتے ہیں اور اپنی غفلتوں اور کمزوریوں پر نگاہ رکھتے ہوئے انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ دوسری جگہ جائیں تو لوگوں کے لئے ایک نیک نمونہ بنیں ان کے لئے ٹھوکر کا باعث نہ بنیں۔چنانچہ ہمارے وقف عارضی کے وفود نے دعاؤں کی برکات سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔جب سے یہ تحریک جاری ہوئی ہے سینکڑوں خطوط ہمارے دفتر میں موجود ہوں گے کہ کس طرح دعاؤں کی ان کو تو فیق ملی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ پیار کا سلوک کیا۔جہاں یہ وفود جاتے ہیں وہاں بھی لوگوں کو بڑا فائدہ پہنچتا ہے۔ان کو بھی خواب غفلت سے بیدار ہونا پڑتا ہے۔انہیں بھی اپنے بھائی کے ساتھ مل کر نیکی کی طرف زیادہ توجہ کرنی پڑتی ہے۔کئی دوستوں نے تو جا کر تہجد کی نماز بھی پڑھانی شروع کر دی۔جو احمدی نماز باجماعت میں غفلت برت رہے تھے ان کو اس طرف توجہ دلائی اور خدا کی مسجدوں کو معمور کر دیا۔غرض عملی طور پر بہت سے فائدے پہنچے کیونکہ جو شخص وقف عارضی پر باہر سے آنے والا ہے وہ سارا دن یا دعا کر رہا ہوگا یا دین کی باتیں کر رہا ہوگا وہ عقائد کے متعلق باتیں کر رہا ہوگا یا خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے متعلق باتیں کر رہا ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو دینی خزائن ہمارے ہاتھ میں رکھے ہیں وہ ان کے متعلق باتیں کر رہا ہو گا۔قرآن کریم کی اس تفسیر اور نہایت ہی حسین تفسیر کے متعلق باتیں کر رہا ہو گا جو مہدی محمد کے طفیل ہمارے ہاتھ میں رکھی گئی ہے یعنی اس مہدی کی تفسیر جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے ہیں اور جنہوں نے جو کچھ بھی پایا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں پایا اور وہ سب کچھ پایا جس کی اس زمانہ میں ضرورت تھی اور اس لئے