خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 338 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 338

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۳۸ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا احسان عظیم یہ کیا ہے کہ امت محمدیہ پر فرشتوں کے نزول کا ایک ایسا دروازہ کھول دیا ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی فلسفہ اور کوئی ازم اور کوئی دلیل بند نہیں کر سکتی اس لئے کہ جو فلسفہ اور دلیل ہے وہ فلسفہ اور دلیل کے مقابلے میں ٹھہرا کرتی ہے چاہے وہ اپنی کچھ غلط شکل ہی بنالے اور عزت قائم کر لے لیکن خدائی فعل کے مقابلے میں دنیا کی ساری دلیلیں ختم ہو جاتی ہیں اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اُمت محمدیہ میں کروڑوں انسان اس بات پر گواہ ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ کے احسان عظیم کے نتیجہ میں ان پر فرشتوں کا نزول ہوا۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمتیں ان کے شامل حال ہوئیں۔اس بارہ میں کسی ایک آدمی کی گواہی نہیں یا دو کی گواہی نہیں یا چار کی گواہی نہیں یا دس کی گواہی نہیں ، کروڑوں انسانوں کی یہ گواہی ہے کہ ان پر فرشتوں کا نزول ہوا۔انہوں نے خدا تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا۔خدا تعالیٰ نے ان کے ساتھ دوستی کی۔انہوں نے خدا تعالیٰ کے ساتھ دوستی کی وہ مقر بین الہی بن گئے ، وہ اولیاء اللہ بن گئے ، وہ قطب بن گئے ، وہ صدیق بن گئے۔پس ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے البتہ اس کے پیار کے اظہار کے مختلف طریقے ہیں۔کوئی بھی دو آدمی ایسے نہیں ملیں گے جن سے خدا کے پیار کا ایک جیسا اظہار ہوا ہو کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن : ٣٠) یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو مقربینِ الہی کی زندگیوں سے عیاں ہے۔ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں نہیں تو ہزاروں ایسے آدمی ہیں جنہیں فرشتے بشارتیں دیتے ہیں۔ان میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی ہیں۔ان میں بڑے بھی ہیں اور چھوٹے بھی ہیں۔ان میں جوان بھی ہیں اور بچے بھی ہیں اور وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر اپنے فضل کے دروازے کھولتا اور انہیں آئندہ کی خبریں دیتا ہے۔کسی زمیندار کے بچے کو یہ بتانے کے لئے کہ دیکھو میں تم سے ذاتی تعلق رکھتا ہوں اور بڑے ہو کر میرے اس تعلق کو بڑھاتے چلے جانا، بعض دفعہ سچی خواب دکھاتا ہے۔اب آٹھ دس سال کا ایک بچہ ہے جسے اس عمر میں قرآن کریم حفظ بھی نہیں ہو سکتا۔گو بعض بچے چھوٹی عمر میں بھی حفظ کر لیتے ہیں لیکن اکثر