خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 307 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 307

۳۰۷ خطبہ جمعہ ۲۳؍ دسمبر ۱۹۷۷ء خطبات ناصر جلد ہفتم لئے نہ ہوگا تو پھر گویا تو نے اپنی خداداد طاقت اور استعداد کے مطابق اپنا پورا زور نہیں لگایا اس لئے تیری تھوڑی سی کوشش گادح الی ربک کے مطابق نہیں ہوگی اور تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حاصل نہیں کر سکے گا۔پس ایک طرف فرمایا انسان کمزور ہے یعنی اس کے ساتھ بہت سی ایسی چیزیں لگی ہوئی ہیں جن کو بشری کمزوریاں کہتے ہیں اور جن کے نتیجہ میں انسان سے غفلتیں ہو جاتی ہیں مگر اس کے با وجود فر ما یا کہ اگر انسان کی نیت پوری کوشش کرنے کی ہوگی اور وہ اپنی خامیوں کو دور کرنے کی بھی پوری کوشش کرے گا تب اس سے اگر کبھی کبھی غلطیاں، کوتاہیاں، گناہ ، کمزوریاں یا سستیاں سرزد ہو جا ئیں گی تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت ان کے اثرات کو دور کر دے گی۔یعنی انسان کی جتنی طاقت ہے اگر اس کے مطابق اس کی کوشش ہوگی اور بغیر فساد کے ہوگی اور خلوص نیت کے ہوگی اور خدا تعالیٰ کی محبت ہوگی اور خدا کی محبت کے حصول اور اس کی رضا کے لئے ہوگی تو با وجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی تو کوئی قیمت ہی نہیں۔یہ ساری کائنات ہی خدا تعالیٰ کے پیار کے ایک لمحہ پر قربان۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے انسان! جب تو اپنی سی کوشش کرے گا تو تیری کوشش کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا پیار تجھے مل جائے گا لیکن پھر تجھے اللہ کے سوا ہر دوسری ہستی کو چھوڑنا پڑے گا۔فرمایا ہم تجھے یہ بشارت دیتے ہیں کہ جب تو کوشش کر رہا ہو گا تو دنیا کے اعلان یا ہم سے دور لے جانے کی دنیا کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ہاں اگر تو بد قسمتی سے خود ہی ان کی طرف مائل ہو جائے تو اس کا تو خود ذمہ دار ہے لیکن اگر تو خود مائل نہیں، اگر تو گادح إلى رَبِّكَ كَدْحًا کی رُو سے پورا زور لگا رہا ہے تو پھر باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کو پانے کے لئے اس کی عظمت اور اس کی قدرت کے لحاظ سے جو کوشش ہونی چاہیے تیری طرف سے اتنی کوشش نہیں ہوتی لیکن چونکہ تجھے خدا ہی نے یہ استعداد یں دی تھیں اور لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: ۲۸۷) کی رو سے تیری استعداد سے زیادہ تجھ سے مطالبہ نہیں کیا جاتا اس لئے تیرے تھوڑے کو قبول کیا جائے گا۔تیرے اخلاص کی وجہ سے، تیری انتہائی جدوجہد کی وجہ سے، تیرے جذبہ کی وجہ سے، تیری محبت کی وجہ سے۔تیری اس کوشش کے نتیجہ میں کہ تو خدا تعالیٰ کی محبت میں فانی ہونا چاہتا ہے اور تو اپنا سب کچھ