خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 276
خطبات ناصر جلد ہفتہ خطبہ جمعہ ۴ رنومبر ۱۹۷۷ء شرک کی ملونی سے ہمیشہ بچار ہوں۔ظلم سے ہمیشہ بچار ہوں ( شرک بھی ظلم عظیم ہے ) غرض اپنے لئے دعائیں کرو اور پھر اپنے خاندان کے لئے دعائیں کرو۔پھر جماعت کے لئے دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو جس غرض کے لئے پیدا کیا ہے اس غرض کو پورا کرنے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی وہ اسے تو فیق عطا کرے۔اور وہ مقصد یہ ہے کہ تو حید ساری دنیا میں پھیل جائے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق آپ کی محبت ہر انسان کے دل میں گاڑ دی جائے اور اسلامی تعلیم جو حسین معاشرہ دنیا میں قائم کرنا چاہتی ہے جس میں کسی پر ظلم تصور میں بھی نہیں آتا اور وہ معاشرہ ساری دنیا میں قائم ہو جائے۔پھر دعا کرو کہ ہمارے ملک میں بھی امن اور آشتی کے حالات پیدا ہوں اور قائم رہیں اور ایک دوسرے سے پیار پیدا ہو اور ہمارے ملک کو خدا تعالیٰ طاقتور بنا دے اور اسے استحکام عطا کرے اور دنیا کے مظالم سے اسے محفوظ رکھے اور دنیا پر احسان کرنے کی ہمارے ملک کو بھی توفیق عطا کرے اور دنیا کے فساد میں کبھی ہمارا ملک ملوث نہ ہو بلکہ ہمیشہ صلاح اور تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنے والا ہو اور خدا تعالیٰ کی رحمتیں ہمارے ملک پر بحیثیت ملک بھی نازل ہوں۔اس کے علاوہ جو آپ کے دماغ میں ہیں وہ اپنی زبان میں دعائیں کریں اور کثرت سے ذکر الہی کریں۔ہزاروں بار سُبْحَانَ اللهِ ، اَلْحَمْدُ لِلهِ اللهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اور خدا تعالیٰ کی دوسری صفات کا ذکر کریں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلا مبالغہ حسن اعظم ہیں۔اتنا احسان انسانیت پر نہ کسی اور نے کیا ہے اور نہ ہمارے تصور میں آسکتا ہے۔آپ ہر پہلو سے احسان کر گئے۔پس آپ پر کثرت سے درود بھیجنا چاہیے۔ہم آپ کو کیا بدلہ دے سکتے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہم پر احسان کئے ہیں ہم تو ان کا کوئی بدلہ نہیں دے سکتے لیکن ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ اے خدا! ہم کمزور ہیں اور ہم بدلہ نہیں دے سکتے تو ہماری طرف سے بدلہ دے اور آپ کے مقام کو بلند تر کرتا چلا جا۔خدا تعالیٰ ہمیں اپنے مقام کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور جو ہدایتیں دی جاتی ہیں خدا تعالیٰ ہمیں