خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 245
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۴۵ خطبہ جمعہ ۲۱ /اکتوبر ۱۹۷۷ء کرتا ہے۔پس خدا تعالیٰ میں بھی سننے کی صفت اور شنوائی کی صفت ہے اور انسان میں بھی ہے لیکن خدا تعالیٰ کی شنوائی کی صفت اور انسان کی شنوائی کی صفت میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ دونوں سنتے ہیں اس لئے اس صفت میں انسان خدا کے برابر ہو گیا، خدا کا شریک بن گیا۔نہیں۔خدا کی شنوائی کی صفت بھی بے مثل و مانند ہے۔اس لئے کہ ایک تو انسان کو شنوائی کے لئے کانوں کی ضرورت ہے یعنی اس کے اپنے جسم میں ایک ایسا آلہ ہونا چاہیے جو سن سکے اور دوسرے اس کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے۔صوتی لہریں جو ہوا میں آتی ہیں ان کے بغیر وہ سن نہیں سکتا خواہ کان موجود ہوں تب بھی نہیں سن سکتا اور تیسرے اس لئے کہ وہ محدود ہے، کئی لحاظ سے محدود ہے۔مثلاً میں یہاں بول رہا ہوں یہ بظاہر چھوٹی سی مسجد ہے لیکن اگر لاؤڈ سپیکر نہ ہو تو جو دور بیٹھے ہوئے ہیں ان کے کان میری آواز نہیں سنیں گے۔فاصلہ حد بندی کر رہا ہے۔اب میں یہاں بول رہا ہوں لیکن اس لاؤڈ سپیکر کے باوجود میری آواز چنیوٹ نہیں سن رہا ، میری آواز لا ہور نہیں سن رہا، میری آواز راولپنڈی نہیں سن رہا، پشاور نہیں سن رہا ، کراچی نہیں سن رہا۔پس فاصلوں کی ایک حد بندی ہے۔صوتی لہر میں ایک خاص قسم کی طاقت ہو تب انسان سن سکتا ہے۔پس ایک تو انسان محتاج ہے کان کا، دوسرے وہ محتاج ہے ہوا کا اور تیسرے یہ کہ پھر بھی اس کی شنوائی محدود ہے لیکن خدا تعالیٰ کی شنوائی نہ کان کی محتاج ہے، نہ ہوا کی محتاج ہے، نہ کسی اور چیز کی محتاج ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور غیر محدود ہے۔اتنی وسیع کائنات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض آیات قرآنیہ سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس یو نیورس (Universe) کے، اس کائنات کے اور اجرام میں بھی انسان سے ملتی جلتی آبادی پائی جاتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل اور شعور دیا ہے اور صاحب اختیار بنایا ہے۔اتنی بڑی کائنات کہ جس کے کناروں سے بھی ہم اپنے علم کے لحاظ سے آگے نہیں بڑھے اس ساری کائنات میں جو بھی آواز ہو خدا تعالیٰ اس کو سنتا ہے لیکن نہ اس کے کان ہیں کیونکہ جسم ہی نہیں ہے اور نہ وہ ہوا کا محتاج ہے اور نہ اس کی سننے کی یہ طاقت یہ صفت محدود ہے بلکہ اس کی سننے کی صفت غیر محدود ہے، اس کی کوئی حد ہی نہیں۔پس خدا تعالیٰ کی شنوائی اور انسان کی شنوائی کچھ ملتی ضرور ہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انسانی صفت خدا تعالیٰ کی صفت کی